مریم عفیفی
تحریر : طاہرے گونیش زَیت عَلی زیتون ، تیرے چہرے کا سکون اور پھر وہ ستون کہ جس سے تجھے کسی بکری کی طرح باندھا گیا۔ مگر تم نے ہونٹ مسکان کے زاویے پر وا
Read Moreتحریر : طاہرے گونیش زَیت عَلی زیتون ، تیرے چہرے کا سکون اور پھر وہ ستون کہ جس سے تجھے کسی بکری کی طرح باندھا گیا۔ مگر تم نے ہونٹ مسکان کے زاویے پر وا
Read Moreتحریر: طاہرے گونیش آشنا مناظر سے نظر چرا کر جانا بھی خود آگاہی کے مہم کا حصہ ہوتا ہے۔ ترک زبان کا محاورہ ہے کہ آپ اپنے گاؤں میں بیٹھ کر پیغمبر نہیں بن سکتے۔
Read More