fbpx
ozIstanbul

مریم عفیفی

تحریر : طاہرے گونیش

زَیت عَلی زیتون ، تیرے چہرے کا سکون اور پھر وہ ستون کہ جس سے تجھے کسی بکری کی طرح باندھا گیا۔ مگر تم نے ہونٹ مسکان کے زاویے پر وا کئے، بنا کسی ضرب اور مُکے کی پروا کئے۔ تو قبلہ اول میں آخرین زمانوں کے لئے سبق چھوڑ رہی ہے۔ اس سبق کا پہلا ورق میں اردن کے زیتونوں سے نہیں مراکش کے آرگان (ارغالی بیر) کے درختوں کے پتوں سے شروع کرتی ہوں ۔

و بلد الامین کہ جب مراکشی کی بکریاں ریوڑ سے آگے دوڑ کر کسی پستہ قامت آرگان کے پیڑ پر چڑھ کر اسے فتح کرتی ہیں۔ اور آرگان کی بیریاں، یروشلم میں آئے روز برپا ہونے والی قیامتوں کی طرح، گرتی ہیں، تو نیچے کوئی بھی خالی جھولی لئے کھڑا نہیں ہوتا۔

حریص بکریاں آرگان کو پاؤں تلے روند کر فاتحانہ چھلانگ لگا کر نیچے اترتی ہیں۔ کچلی ہوئی آرگان کی بیریوں کے بیوپاری جب اپنے تھیلے بھر کر تیل کشید کرتے ہیں اور مالا مال ہوتے ہیں تو وہ بکریوں کے احسان مند ہوئے بغیر ثروت مند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آرگان کی بے قدری ، بیوپاریوں کی بے حسی ، بکریوں کی حرص مجھے القدس کی یاد دلاتا ہے عفیفی!
جانتی ہو کیوں ؟

کل شب ، شب خون میں تم پر دست دراز ہوئے تو تم کو ہتھ کڑی لگانی پڑی۔ میری داستان کا آخری باب تم سے شروع ہوتا ہے مریم کہ جب تم دہشت کو مسکرا کر ٹھکانے لگاتی ہو۔

تم ہارتی نہیں ہرا دیتی ہو۔ تم آرگان کی بیری سے برتر ہو۔ تم تین کے ہمسائے زیتون کے سائے میں پلنے والی مریم عفیفی ہو کہ جس کو کوئی لات گرا نہیں سکتی۔

ابھی لہو اتنا تو باقی ہے اہل فلسطین کی رگوں میں کیا ظلم کی آگ بجھا نہیں سکتی ؟
کیا جابر فوج کے سامنے بیٹھی مریم مسکرا نہیں سکتی ؟

پچھلا پڑھیں

غزہ میں اسرائیلی بمباری، اقوم متحدہ خاموش، امریکہ جانبدار

اگلا پڑھیں

فیس بک کے بانی زکربرگ کا شدید ردعمل کے بعد مواد کی پالیسیوں پر نظرثانی کا وعدہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے