صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ فن لینڈ اور سویڈن کو ترکیہ کے سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔
ابراہیم قالن نے برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا فطری حق ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں اور دوسرے دوست ممالک سے ترکیہ کے سیکورٹی خدشات کے حوالے سے اسی طرح کے اقدامات کی توقع کریں، جس طرح ہم نیٹو کے دیگر رکن ممالک اور دیگر غیر نیٹو دوست اور اتحادی ممالک کے سیکورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور فوری طور پر انتھک کارروائی کرتے ہیں۔
قالن کے ریمارکس ترکیہ ، فن لینڈ اور سویڈن کے درمیان سہ فریقی میکنزم میٹنگ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں نیٹو میڈرڈ سمٹ میں جون 2022 کے سہ فریقی میمورینڈم میں کیے گئے وعدوں کے نفاذ کے بارے میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ ملاقات مثبت ماحول میں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ علاقوں میں فن لینڈ اور سویڈن کے کچھ اقدامات اطمینان بخش ہیں جن کا ترکیہ خیر مقدم کرتا ہے۔
قالن کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران ہم نے اپنی توقع کا اظہار بھی کیا کہ ضروری قانونی، عدالتی، انتظامی اور انٹیلی جنس اقدامات کیے جائیں تاکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت، بھرتی، دہشت گردی کے پروپیگنڈے اور تشدد پر اکسانے کو روکا جا سکے۔
گزشتہ جون میں، ترکیہ اور دونوں نورڈک ممالک نے انقرہ کے جائز سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے میڈرڈ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ایک یادداشت پر دستخط کیے، جس سے اتحاد میں ان کی حتمی رکنیت کی راہ ہموار ہوئی۔
یادداشت میں ترکیہ کے خدشات کو دور کیا گیا ہے جس میں ہتھیاروں کی برآمدات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شامل ہے۔
صرف ہنگری اور ترکیہ نے ابھی تک نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن اور فن لینڈ کی درخواستوں کی توثیق نہیں کی ہے۔
