ترک اسپیکر قومی اسمبلی مصطفیٰ شَن توپ کا ملائیشا کا دورہ، اسلامی یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیا

ترکیہ کی  قومی  اسمبلی   کے اسپیکر مصطفیٰ   شَن توپ نے ملائیشیاکا دورہ کیا ۔ ملائیشا کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر اظہر عزیزان ہارون سے ملاقات کی ہے۔ملا قات میں  مختلف شعبوں میں ترقی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور وفود کے درمیان مذاکرات منعقد ہوئے ۔

مصطفیٰ   شَن توپ  نے  بعد میں ملائیشیا کے سینیٹ کے چئیرمین  رئیس یتیم اور ان کے ہمراہی وفد سے ملاقات کی۔ میڈیا سے بات  کرتے ہوئے مصطفیٰ   شَن توپ  نے  کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دو طرفہ تعلقات میں اعتماد کا احساس غالب ہے، اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں قانون ساز اداروں کے درمیان تعلقات کی بہتری شامل ہے۔

مصطفیٰ   شَن توپ نے کہا کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی اور نسل کشی کی کوششوں کو روکنے اور روہنگیا کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ان کی کوششیں انتہائی قابل قدر ہیں۔مصطفیٰ   شَن توپ ISIPAB (اسلامک تعاون تنظیم کی پارلیمانی یونین) کے رکن   ممالک میں آباد  مسلم اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں   سے  متعلق  رپورٹ کی طرف توجہ مبذول کرائی  ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے طور پر، یہ پوری دنیا اور انسانیت کے مفاد میں ہو گا کہ آنے والے ادوار میں اس طرح  تعاون جاری رکھتے ہوئے  انصاف اور انسانیت  پر مبنی پالیسی کے لیے کوششیں کی جائیں۔ترکیہ کی قومی اسمبلی  کے  سپیکر نے کہا کہ ترکیہ  کی زیر صدارت طویل عرصے سے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کو مزید فعال بنایا جا سکتا ہے۔

ملائیشیا  کے دورے کے  دوسرے اور آخری روز مصطفیٰ شن نے   بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں "دو مختلف دنیا، قانون کی دو مختلف تفہیم” کے عنوان سے ایک لیکچر میں طلباء اور ماہرین تعلیم سے خطاب  بھی کیا

انہوں نے کہا کہ  آج عالمی مسائل میں سے ایک کا سامنا قانون کی انصاف فراہم کرنے میں ناکامی ہے، شَن توپ  نے اپنے مفادات کے لیے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنی شدید تنقید  کا نشانہ بنایا ہے۔

شَن توپ  نے  کہا کہ  روس اور یوکرین کے درمیان 24 فروروی  سے  جاری جنگ  کئی مواقع پر دونوں ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  تقریباً نصف صدی سے پوری دنیا میں بین الاقوامی قانون  کو قتل  کرتے ہوئے اسے میٹ  کی شکل دی جاچکی  ہے    اور  اپنے مفادات کی بات  کرنے والے کھل کھلا  قانون شکنی  کررہے ہیں  تو  وہ بھلا  کس منہ  سے  اپنے آپ کو حق بجانب قرار دے سکتے ہیں اس وجہ سے ہم  بحیثیت ترکیہ  کہتے ہیں کہ ‘ایک نئی اور منصفانہ دنیا ممکن ہے۔  اور ایک منصفانہ دنیا صرف قانان کی پاسداری ،  اقدار، عقائد، ضمیر اور اخلاق  پر عمل درآمد ہی سے ممکن ہے۔

اپنے  دورے کے دائرہ کار میں   ترکیہ کی  قومی  اسمبلی کے  اسپیکر مصطفیٰ شَن توپ  نے  ملائیشیا کے بادشاہ سلطان عبداللہ سے استانہ نگرا شاہی محل میں ملاقات کی

Read Previous

مسجد نبوی :ریاض الجنۃ میں خواتین کے لیے عبادات کا نیا شیڈول جاری

Read Next

ترکیہ کا سفر

Leave a Reply