ترکیہ کا سفر

تحریر۔عارف الحق عارف

ہم اس وقت ترکیہ  کے بڑے شہر اور سلطنت عثمانیہ دور کے صدر مقام استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ابھی ابھی اترے ہیں۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ۴۲ سال کے بعد یہاں آنے کی ہماری خواہش پوری ہوئی ہے۔

اس پر ہم بڑے خوش اور پرجوش ہیں۔ہمیں اس سے قبل ۱۹۸۰ میں یہاں آنے کا موقع ملا تھا۔الحمد للّٰہ کہ آج ہم خوش ہیں ہم ارطغرل،عثمان اور اب طیب  ایردوان کے ترکیہ  کو دیکھنے ترکیہ پہنچ گئے ہیں۔

ترکیہ عالم اسلام کا ایک اہم اور بڑا ملک ہے جس کے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ برادرانہ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ہمیں اس کا پہلا مشاہدہ ۱۹۷۶ میں اس وقت ہوا جب ہم اپنے والد محترم کے ساتھ پہلی بار فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے۔ترکیہ سے بھی بڑی تعداد میں عازمین حج آئے ہوئے تھے۔وہ ایرانی عازمین کی طرح بڑے منظم تھے اور ہر وقت اپنے چاند تارے والے سرخ پرچم کے ساتھ قافلوں کی صورت چلتے تھے۔اور نماز کی ادائیگی کے بعد اسی طرح منظم طور ہر اپنی اپنی بسوں کے ذریعہ اپنی رہائش گاہوں کو لوٹ جاتے تھے۔

ان میں سے بعض کے ساتھ جب بات چیت کی کوشش کرتے تو ایک دوسرے کی زبان سے ناواقفیت رکاوٹ بن جاتی اور ہماری وہی کیفیت ہوتی کہ یار من ترکی و من ترکی نمی دانم

لیکن جب ہم ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتے کہ ہم پاکستانی ہیں تو ان کے چہرے پر محبت اور خوشی کے آثار نمودار ہوجاتے اور وہ “ کار دیش کا دیش”کہتے ہوئے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ملتے۔اس کی وجہ تو بہت بعد میں سمجھ میں آئی کہ وہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کی اس کی بحالی کےلئے ان کے کردار اور ترک عوام کی ضرورت کے ہر موقع پر دامے درمے اور سخنے امداد اور تعاون کو کبھی نہیں بھولے۔اس لئے جب بھی ان کا سامنا کسی پاکستانی یا انڈیا کے مسلمان سے ہوئی ہے تو وہ بہت گرم جوشی سے ملتے ہیں۔

دوسری بار ہمیں اس محبت کا مشاہدہ ۱۹۸۰ میں اس وقت ہوا جب ہم رابطہ عالم اسلامی کے زیر انتظام اسلامی ملکوں کے صحافیوں کی کانفرنس کی تیاری اجلاس میں شرکت کےلئے پہلے استنبول اور پھر ترک قبرص گئے تھے۔واپسی میں دو دن استنبول ٹھہرے تھے اور رابطہ کے وفد کے ساتھ مختلف جگہوں کا دورہ کیا تھا۔اس دوران بھی ترک عوام کی پاکستانیوں کے ساتھ محبت اور ان کے لیے احترام کے جذبات محسوس کئے تھے۔

ترکیہ اور ترکوں سے ہماری محبت کی حالیہ وجہ ترکی کے تاریخی ڈرامہ سیریل ارطغرل، عثمان، پائے تحت عبدالحمید ثانی،فلنٹا مصطفے اور احمت کوتلوعمارے ظفر بنے ہیں۔جن تاریخی ڈراموں میں سلطنت عثمانیہ کے بائی عثمان،اس کے والد ارطغرل،خلافت عثمانیہ کے آخری طاقتور اور ذہین ترین خلیفہ عبد الحمید ثانی اور ان کے چچا خلیفہ عبد العزیز کی معزولی اور قتل کے بعد پہلے سازشی فری میسنری کی نت نئی سازشوں کے ذریعہ ان کے بڑے بھتیجے مراد جو خود فری میسن تھا، کی تخت نشینی اور تین ماہ بعد اس کی بگڑتی ہوئی ذہنی کیفیت کی بنا پر فوج کے ہاتھوں معزولی اور ۱۸۷۶ میں دوسرے بھتیجے عبدالحمید ثانی کی تخت نشینی اور ۳۴ سال کی کامیاب حکمرانی کے بعد صیہونی، صلیبی اور برطانیہ، فرانس،جرمنی اور روسی استعمار کے گٹھ جوڑ اور سازشوں کے ذریعہ ۱۹۰۹ میں معزولی اور ۹ سال تک جلاوطنی کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ان تاریخی ڈرامہ سیریز کے اثرات نا صرف ہم پر بلکہ ان کو دنیا کے مختلف ممالک میں ان کو دیکھنے والے کروڑوں ناظرین پر بھی پڑے ہیں۔پاکستان میں ارطغرل سیریز نے اردو ڈبنگ کے بعد تو ریٹنگ کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔اور آج کل عثمان اور پائے تحت عبدالحمید ثانی بھی اردو ڈبنگ کے ساتھ دکھائے جارہے ہیں۔ان سیریز کو دیکھنے کے بعد تو ترکی سے ہماری محبت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور اب ہم ترکی کو اپنا دوسرا وطن تصور کرتے ہیں۔

 

ترکیہ اور ترکوں سے محبت کی چوتھی وجہ ان کا تیرہویں صدی میں ان کے جد اوّل ارطغرل کی وحشی منگولوں اور اسلام کے دشمن عیسائی بادشاہوں اور متعصب صلیبیوں کے خلاف جہاد و جہد مسلسل اور ان کے بیٹے عثمان کی ذہین اور جرت مند قیادت میں عثمانی سلطنت قائم کرنا بنی ہے جو سولہویں صدی میں خلافت اسلامیہ میں تبدیل ہوئی۔ اس خلافت عثمانیہ نے خلیفہ سلیمان قانونی کے دور میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر اپنے اقتدار کے دائرے کو تین براعظموں اور تین چوتھائی سمندر تک وسیع کردیا۔ان کے سامنے دنیا بھر کی طاقتیں خوفزدہ رہتی تھیں۔ان کے دربار میں دنیا بھر کے سفیر اور وفود نگاہیں نیچی کیے ہوئے بڑے ادب کے ساتھ حاضر ہوتے تھے۔ بلا شبہ خلافت عثمانیہ اس دور کی امریکہ کی طرح کی ایک بڑی طاقت ور سپر پاور اور دنیابھر کے مسلمانوں کی محافظ تھی، جس سے اسلام دشمن قوتیں ہر وقت لرزہ براندام رہتی تھیں۔پھر مغل بھی ترک ہی تھے جنہوں نے پندرھویں صدی میں ظہیر الدین بابر کی قیادت میں دلی فتح کیا اور پھر انیسویں صدی کے نصف تک نصیرالدین ہمایوں،اکبر اعظم، جہانگیر، شاہجہاں اور اورنگ زیب سے ہوتے ہوئے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر تک ساڑھے تین سو سال تک ہندوستان جیسے مختلف قومیتوں ،زبانوں مذاہب اور رسوم و رواج رکھنے والی اقوام پر حکومت کی اور ان کے د لوں پر راج کیا۔

ترکیہ اور ترکوں سے محبت کی پانچویں اور آخری وجہ ترکوں کا اسلام کے ساتھ مضبوط تعلق اور محبت ہے۔جس کو یہودی سازشیں اور خلافت کے خاتمے،لارنس آف عریبیہ کے ذریعہ ترکوں اور عربوں کے درمیاں نفرتیں پیدا کرنے اور خلافت کے خلاف بغاوت برپا کرنے، اور ان کے زیر نگیں علاقوں کو استعماری طاقتوں کے درمیان ریوڑیوں کی طرح بانٹ لینے اور عربی رسم الخط کو بدل کر رومن رسم الخط رائج کرنے، مساجد کو بند کرکے میوزیم یا اصطبل بنانے حتی کہ عربی میں آذان دینے تک پر پاپندی لگانے جیسے اقدامات کے باوجود ان کے سینوں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی شمع جلتی رہی اور ایمان کو ان کے ذہنوں سے نہ نکالا نہ جاسکا۔علامہ سعید نور سی اور ان کے بے شمار شاگردوں نے ان ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ماچس کی ڈ بیوں اور دیگر غیر محسوس ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو نئی نسل تک پہچانے کا کام جاری رکھا۔ان کا یہ کام رسائل نورسی کی صورت میں آج بھی کتابی شکل میں موجود ہے۔ترکی کے ایک مقبول وزیر اعظم عدنان مندریس نے اسلام کو اصل صورت میں بحال کرنے کی کوشش کی اور مساجد سے صرف عربی میں آذان دینے کا آغاز کیا۔تو اس کو ترکی کے سیکولر آئین سے غداری قرار دیاگیا، ان پر مقدمہ چلایا گیا اور ان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ان کی یہ بڑی قربانی کام آئی اور اسلامی قوتوں نے صوفیائے کرام کے حلقوں اور علامہ محمود آفندی اور نجم الدین اربکان کی قیادت میں نئی نسل کو متاثر کرنا شروع کیا۔نجم الدین اربکان وزارت عظمی پر فائز ہوئے۔ان کی جماعت سے نوجوان طیب اردوآن کی قیادت ابھری اور اب وہ چوتھائی صدی سے ترکی کی عظمت رفتہ کی بحالی کےلئے کوشاں ہیں۔انہوں نے اپنے اقتدار کے دور میں لامذہب ترکی کو اسلامی ترکی میں بدلنے کےلئے جرت مندانہ فیصلے کیے جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ہماری مساجد کے مینار وہ میزائیل ہیں جو اسلام دشمنوں کے سینوں کو چیرتے ہوئے باہر نکل جائیں گے۔ان کے اس بیان پر بڑا واویلا مچا تھا اور ان پر سیاست کے دروازے ۵ سال کےلئے بند کر دیئے تھے۔لیکن وہ پھر سرخرو ہوئے۔ ترک عوام نے ان کو باربار منخب کیا۔وہ اس وقت عالم اسلام کے بڑے قابل قدر بڑے لیڈر اور عوام کی آنکھ کا تارہ ہیں۔

 


ان مزکورہ بالا وجوہ کی وجہ سے عرصے سے ترکیہ اور ترکوں کو قریب سے دیکھنے اور ان کی درمیان رہنے کی خواہش اور تڑپ تھی لیکن حالات نے اجازت نہ دی۔ اصل بات یہ ہے کہ اس ملک میں ہمارا آب و دانہ نہ تھا۔لیکن ۴۲ سال کے بعد اب موقع ملا ہے کہ ہم ترکی کا دور کریں اس کے لئے کئی بار پروگرام بنایا لیکن کوئی نا کوئی وجہ اس کو منسوخ کرنے کی بنتی گئی۔ اللہ کا شکرہے کہ اب یہ خواہش پوری ہوئی اور ہم نے یہ تحریر ترکی کے اس سفر کے دوران ہوائی جہاز کے اندر لکھی ہے۔ اس سفر کو ممکن بنانے میں جس شخص نے ہماری مدد کی وہ فیس بکی دوست توصیف ہیں۔ان کا تعلق گوجرانوالہ پاکستان سے ہے اور اس وقت پاک ترک ٹریول ایجنسی کے سی ای او ہیں۔ان سے رابطہ فیس بک ہی سے ہوا۔

Read Previous

ترک اسپیکر قومی اسمبلی مصطفیٰ شَن توپ کا ملائیشا کا دورہ، اسلامی یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیا

Read Next

ترک ہلال احمر وفد کی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات

Leave a Reply