ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کر دی ہے اور ریٹنگ آؤٹ لک کو مستحکم برقرار رکھا گیا ہے عالمی ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ بہتری ادارہ جاتی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری معاشی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔
ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات میں اضافے کے اقدامات نے مالیاتی استحکام کو مضبوط بنایا ہے جس سے آئندہ برسوں میں قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی توقع ہے۔
ادارے کے مطابق پاکستان کو مسلسل سرکاری اور بیرونی مالی معاونت ملنے کی توقع ہے، جس سے ملک اپنی بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے اور تجارتی قرضوں کی بروقت تجدید کرنے کے قابل رہے گا
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے مجوزہ 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کی منظوری مل جاتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہوگا روپے پر دباؤ کم ہوگا اور کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر انحصار میں بھی کمی آسکے گی۔
ایس اینڈ پی نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2027 میں پاکستان کی معیشت 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے پاکستان میں مہنگائی پر صرف محدود اثرات پڑنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات نے معاشی استحکام بحال کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات اور بیرونی مالی وسائل کی مسلسل آمد نے پاکستان کی معیشت کو ممکنہ عالمی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید مضبوط بنایا ہے
