پاکستان: سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جانے والے ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا، تمام فوجی افسران شہید

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع خضدار کی پولیس نے کور کمانڈر کوئٹہ کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کردی۔

ڈی آئی جی خضدار نے آرمی ایوی ایشن کے گزشتہ روز لاپتا ہونے والے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی۔

ڈی آئی جی خضدار پرویز عمرانی کا کہنا ہےکہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ سسی پنوں مزار کے قریب موسیٰ گوٹھ سے ملا ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق ہیلی کاپٹر کا ملبہ کراچی سے 45 کلو  میٹر دورعلاقے سے ملا ہے جو موسیٰ گوٹھ کے قریب درے گئی پہاڑی سلسلہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹر پر جاری بیان کے مطابق حادثے میں تباہ ہونے والے ہیلی کا پٹر کا ملبہ مل گیا ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے سبب پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے علاوہ 5افسران اور جوان بھی سوار تھے جنہوں نے جام شہادت نوش کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دیگر 5 شہدا میں میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد اور 12 کور کے انجینیئر بریگیڈیئر خالد سوار تھے۔

ہیلی کاپٹر میں سوار افراد میں پائلٹ میجر سعید، معاون پائلٹ میجر طلحہٰ اورکریو میں چیف نائیک مدثر بھی شامل تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کون تھے؟

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔  جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔

اس کے بعد وہ امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور ڈیفینس اتاشی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

امریکہ سے واپسی کے بعد لیفٹننٹ جنرل سرفراز علی سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس یعنی ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

ایم آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے آئی جی تعینات ہوئے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ہونے کے بعد انھیں کور کمانڈر 12کور، جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے، تعینات کیا گیا تھا۔

ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد میں ڈی جی کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی کی گذشتہ ہفتے آرمی کے پروموشن بورڈ کے دوران میجر جنرل کے رینک میں ترقی ہوئی تھی۔

ہیلی کاپٹر میں موجود بریگیڈیر خالد کا تعلق کور آف انجینیئرز سے تھا۔

Read Previous

امریکی گلوکارہ کی ترکیہ میں لیونڈر کی کٹائی میں شرکت

Read Next

ترکی میں منکی پاکس سر اٹھانے لگا، 5 کیسز رپورٹ، وزیر صحت

Leave a Reply