Turkiya-Logo-top

"محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، اور جنگ کے بجائے امن”، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب

"پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔”

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے، کشمیر اور خطے میں امن کے معاملے پر واضح پیغام دیا، جبکہ فلسطین، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور دہشت گردی پر بھی پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بھارتی اقدام کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ پاکستان کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو پاکستان "جنگی اقدام” تصور کرے گا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

شہباز شریف نے گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے پاکستانی افواج کے ردعمل کو سراہا اور مئی 2025 میں جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی خطرناک صورتحال تک پہنچنے سے روکنا ہوگا۔

لیکن وزیراعظم کے مطابق خطے میں مستقل امن کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔کشمیری آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ اور غیر جانب دار استصوابِ رائے کے وعدے کے منتظر ہیں۔

وزیراعظم کے خطاب کا ایک بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی مرکوز رہا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم شہ رگیں ہیں اور انہیں تصادم کے مراکز نہیں بننا چاہیے۔

وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعلان بھی کیا۔

اسی تناظر میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، بلکہ دفاع، علاقائی استحکام اور امن کے لیے اجتماعی عزم ہے۔

فلسطین پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں کی اموات عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی پر ایک سوال ہیں۔

پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

دہشت گردی اور افغانستان کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دے چکا اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کو بتایاکہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی افغان سرزمین پر موجود پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایسے گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ساتھ ہی وزیراعظم نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں سمیت افغان عوام کے بنیادی حقوق کے احترام پر بھی زور دیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے، لیکن جنگ اور امن دونوں انسانوں کے اپنے انتخاب ہیں۔انہوں نے کہا، "پاکستان اپنا انتخاب کر چکا ہے۔محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے تعاون۔۔۔ اور جنگ کے بجائے امن۔”

Read Previous

نیویارک میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی ملاقات

Read Next

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کا امریکی سرکاری ویب سائٹس پر غیر متوقع رویہ، کمپنی نے تحقیقات شروع کر دیں

Leave a Reply