ozIstanbul

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکیہ کا تاریخی دورہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکیہ کا تاریخی دورہ۔

انقرہ کے صدارتی محل آمد پرصدر ایردوان نے مرکزی دروازے پر معزز مہمان کا استقبال کیا اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔

سلامی کے چبوترے پر محمد بن سلمان کو سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

ملاقات کے دوران صدر ایردوان نے سعودی ولی عہد سے اپنی کابینہ کا تعارف کروایا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی۔

سعودی عرب اور ترکیہ نے وسیع تر مفاد میں دفاعی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا اور تجارتی تعلقات، عسکری تعاون، سرمایہ کاری اور ثقافتی شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

محمد بن سلمان نے 2030 ایکسپو کی میزبانی سعودی عرب کو دینے کی حمایت پر صدر ایردوان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

سعودی عرب اور ترکیہ کی ہائی لیول کوآرڈینیشن کونسل کو موثر بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ملکوں نے آئل ریفائنری، پیٹرو کیمیکل، بجلی، ہائیڈرو کاربن کے وسائل اور دیگر شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی۔

ترکیہ نے سعودی عرب کےGreen Initiative منصوبے کی حمایت کی اور کہا کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں ماحولیاتی تبدیلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

سعودی ولی عہد اور صدر ایردوان نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سمارٹ سٹیز میں سرمایہ کاری، نئی کمپنیاں قائم کرنے اور پرائیویٹ سیکٹر کو ان منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

صدر ایردوان نے سعودی سرمایہ کاروں کو ترکیہ میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی اور سائنسی تحقیق میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

معاشی ترقی کے لئے دونوں رہنماؤں کا چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروبار کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون کے شعبوں میں طے شدہ معاہدوں کو موثر بنانے اور انہیں جدید خطوط پر استوار کرکے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

خطے اور علاقائی امن سمیت مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر ایردوان نے ولی عہد محمد بن سلمان کو ترکیہ کے جدید ہیلتھ سسٹم سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ترکیہ دنیا میں بہترین علاج کے لئے اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے خطے کے سیاسی بحران اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

سعودی عرب اور ترکیہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی خودمختاری کو زک نہیں پہنچائے گا ۔

خطے کے ممالک کو ایسے ہر کام سے بچانے کی کوشش کی جائے گی جس سے کشیدگی کو ہوا ملے۔ امن و استحکام کو فروغ دیا جائے گا۔

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت اہم بین الاقوامی وعلاقائی تنظیموں کے دائرے میں تعاون و یکجہتی بڑھانےسے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے عوام اور خطے کے مستقبل کی خاطر تاریخی اخوت کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنا دورہ ترکیہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ ہو گئے۔ صدر ایردوان نے ایئر پورٹ پر معزز مہمان کو رخصت کیا۔

پچھلا پڑھیں

افغانستان:طالبان حکومت کی عالمی برادری سے امداد کی اپیل

اگلا پڑھیں

پاکستان کی فلاح و بہبود میں ٹکا کی کاوشوں کی قدر کرتے ہیں، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب

تبصرہ شامل کریں