Turkiya-Logo-top

روس اور یوکرین کے درمیان عارضی جنگ بندی؛ امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جاری کردہ ایک بیان میں کیا، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ دونوں ممالک 9، 10 اور 11 مئی 2026 کو جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

‘یومِ فتح’ کے موقع پر سفارتی کامیابی

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ جنگ بندی روس کے ‘یومِ فتح’ (Victory Day) کے موقع پر کی گئی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دوسری جنگِ عظیم میں نازیوں کے خلاف تاریخی فتح میں روس اور یوکرین دونوں کا اہم کردار تھا، لہٰذا یہ وقفہ دونوں ممالک کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ غیر معمولی معاہدہ ان کی براہِ راست کوششوں اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

جنگ بندی کے اہم نکات اور شرائط

رپورٹس کے مطابق، اس مختصر مدتی مگر انتہائی اہم جنگ بندی میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • جنگ بندی کی مدت: یہ سیز فائر مکمل 72 گھنٹے (9 مئی سے 11 مئی 2026 تک) نافذ رہے گا۔
  • حملوں کی معطلی: اس دوران تمام قسم کی "کائنیٹک سرگرمیوں” (Kinetic Activities) یعنی گولہ باری، ڈرون اور فضائی حملوں کو مکمل طور پر معطل رکھا جائے گا۔
  • قیدیوں کا تبادلہ: دونوں ممالک کی جانب سے ایک ایک ہزار (1,000) جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا، جو اس جنگ کی تاریخ کا ایک بہت بڑا اقدام ہے۔
  • بنیادی مقصد: صدر ٹرمپ کے مطابق، اس عارضی جنگ بندی کا اصل مقصد مستقل امن مذاکرات کے لیے ایک ہموار راہ تیار کرنا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور پسِ منظر

اگرچہ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو "خوفناک جنگ کا خاتمہ” قرار دیا ہے، تاہم سفارتی اور عسکری ماہرین اس کے مختلف پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں:

  • روس کا مؤقف: روس نے پہلے ہی ‘یومِ فتح’ کے حوالے سے دو روزہ یکطرفہ جنگ بندی کا اشارہ دیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ کے اعلان نے اس میں ایک دن کا اضافہ اور قیدیوں کے تبادلے کی شرط شامل کر دی ہے۔
  • یوکرین کی آمادگی: یوکرین ماضی میں ایسی جنگ بندیوں کو روس کی جانب سے اپنی فوج کو ‘دوبارہ منظم’ (Regroup) کرنے کی چال قرار دیتا رہا ہے۔ لیکن اس بار امریکی دباؤ اور 1,000 قیدیوں کی بحفاظت واپسی کی وجہ سے یوکرینی قیادت نے اس معاہدے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یاد رہے کہ اس اعلان سے محض چند گھنٹے قبل تک دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں، اور روس نے دھمکی دی تھی کہ اگر یوکرین نے یومِ فتح کی تقریبات میں کسی قسم کا خلل ڈالا تو دارالحکومت کیف پر بڑے اور تباہ کن حملے کیے جائیں گے۔

مستقبل کا منظر نامہ: کیا یہ مستقل امن کی شروعات ہے؟

امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ جون 2026 تک اس طویل جنگ کے کسی مستقل حل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ مئی کے آخر یا جون کے اوائل میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی کیف آمد کے منتظر ہیں تاکہ سفارتی عمل کو باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

تجزیہ: یہ تین روزہ جنگ بندی جنگ کے شکار عوام کے لیے ایک علامتی فتح تو ہو سکتی ہے، لیکن مستقل امن کا سارا دارومدار ان مذاکرات پر ہے جو اس وقفے کے دوران پسِ پردہ جاری رہیں گے۔ اب پوری دنیا کی نظریں 12 مئی پر مرکوز ہیں کہ آیا جنگ کا یہ عارضی سکوت کسی مستقل امن معاہدے کی بنیاد بن پاتا ہے یا نہیں۔

Read Previous

اوکلاہوما سٹی تھنڈر کی شاندار فتح، لیکرز کو 125-107 سے شکست

Read Next

وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ-ایران مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

Leave a Reply