Turkiya-Logo-top

وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ امریکہ-ایران مذاکرات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

انقرہ / تہران: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان آج (8 مئی 2026 کو) ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس گفتگو میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے حالیہ اور فیصلہ کن مرحلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

امریکہ-ایران مذاکرات اور امریکی تجویز کا جائزہ

ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بنیادی محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال تھی۔

  • امریکی تجویز: اس وقت ایران خطے میں جاری کشیدگی اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے دی گئی ایک اہم تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب کو جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت اور جاری سفارتی کوششوں سے مکمل طور پر آگاہ کیا۔
  • ایران کا مؤقف: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان کے مطابق، تہران فی الحال امریکی تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور تمام اسٹریٹجک پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہی اپنا حتمی مؤقف سامنے لائے گا۔

پاکستان کی ثالثی اور ‘اسلام آباد امن عمل’

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد، اسلام آباد میں باقاعدہ امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، یہ امن عمل اب ایک فیصلہ کن موڑ پر داخل ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اس عمل کی کامیابی اور علاقائی استحکام کے لیے ترکیہ کے بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

ایران اور یو اے ای جھڑپیں؛ ترکیہ کی تحمل کی اپیل

فون کال کے دوران گفتگو کا دائرہ صرف امریکہ-ایران مذاکرات تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورے خطے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

  • دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ رات ایران اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
  • ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ایران پر زور دیا کہ وہ خطے کے وسیع تر مفاد میں انتہائی تحمل سے کام لے۔

ترکیہ کا مصالحتی کردار اور خطے کا مستقبل

دورانِ گفتگو ترکیہ اور ایران، دونوں برادر ممالک نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ خطے کو مزید عدم استحکام اور جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے قریبی رابطہ کاری (Coordination) ناگزیر ہے۔

یہ رابطہ ایک ایسے حساس وقت میں ہوا ہے جب عالمی طاقتیں خطے میں کسی مستقل اور پائیدار حل کے لیے کوشاں ہیں۔ ترکیہ، جس کے ایران اور مغربی دنیا دونوں کے ساتھ قریبی اور متوازن سفارتی تعلقات ہیں، اس بحران کے پرامن خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم سہولت کار (Facilitator) کا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

Read Previous

روس اور یوکرین کے درمیان عارضی جنگ بندی؛ امریکی صدر ٹرمپ کا اعلان

Read Next

پینٹاگون کی خفیہ یو ایف او فائلیں منظرعام پر،چاند پر خلا بازوں نے کیا دیکھا؟

Leave a Reply