روس اور چین کے فوجی اتحاد کا فیصلہ، روسی صدر پیوٹن کا اعلان

روس اور چین کے درمیان فوجی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ماسکو کے تھنک ٹینک کلب ولدائی ڈسکشن کلب سے ایک وڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے روس کے صدر ولاد میر پیوٹن نے کہا کہ وہ چین اور روس کے درمیان فوجی اتحاد قائم کرنے کا ایک آئیڈیا پیش کر رہے ہیں۔ اگر یہ اتحاد قائم ہوتا ہے تو یہ مختصر نہیں بلکہ طویل مدت کا معاہدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ پہلے سے موجود نہیں ہے لیکن اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ولاد میر پیوٹن نے کہا کہ روس اور چین باقاعدگی کے ساتھ مشترکہ فوجیں مشقیں کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک کامیاب فوجی تعاون موجود ہے۔ روس اور چین نہ صرف ایک دوسرے سے دفاعی اسلحہ خرید رہے ہیں بلکہ کچھ حساس نوعیت کی ٹیکنالوجیز کا بھی آپس میں تبادلہ کر رہے ہیں۔

اب چین اور روس کے تعلقات اس اعتماد کی اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اتحاد وقت کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگے جا کر یہ اتحاد کیا شکل اختیار کرے گا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ گو کہ دونوں ملکوں نے ابھی تک اس پر غور و فکر نہیں کیا ہے لیکن اس اتحاد کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح پر تعلقات انتہائی خوشگوار ہیں۔

روس اور امریکہ کے درمیان تخفیف اسلحہ کے معاہدے اسٹریٹجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی (سٹارٹ) میں چین کو شامل کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ولاد میر پیوٹن نے کہا کہ وہ اس کے حامی ہیں لیکن اس کے لئے امریکہ کو چین سے بات کرنا ہو گی کیونکہ تخفیف اسلحہ کا معاہدہ امریکہ کا آئیڈیا تھا۔

نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد نہ بڑھانے کے معاہدے پر انہوں نے کہا کہ چین کی صلاحیت اس شعبے میں ابھی محدود ہے لہذا چین پر اس کا اطلاق غیر مساوی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف چین بلکہ دیگر نیوکلیئر اسٹیٹس اور وہ ممالک جن کے پاس ابھی نیوکلیئر پاور کا درجہ نہیں ہے انہیں بھی اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہیئں۔

Read Previous

الارو موراتا سے یووینٹس کے ڈائنامو کیف کو 2-0 سے شکست کا سامنا

Read Next

ترکی میں آرمینیا کی کمیونٹی کی حمایت جاری رکھیں گے، صدر ایردوان

Leave a Reply