تحریر : محمد اسلم جے بھٹی
زبان قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ قوموں کو جوڑنے والا پل بھی بن جاتی ہے۔ اردو اور ترکی بھی ایسی ہی دو زبانیں ہیں جن کے درمیان صدیوں کا تعلق ہے۔ یہ تعلق ہماری مشترکہ تہذیب، تاریخ، علم وادب، محبت ، علم ، ایمان اور باہمی اعتقادات کا تعلق ہے۔ جب ہم اردو بولتے ہیں تو اس کی آواز میں اناطولیہ کی ہوا بھی شامل ہوتی ہے اور جب استنبول میں کوئی ترک اردو بولتا ہے تو اس کے لفظوں میں کراچی اور لاہور کی مٹھاس بھی سنائی دیتی ہے۔
اردو کا نام ہی ہمیں ترکی کی یاد دلاتا ہے۔ "اردو” ترکی لفظ "Ordu” سے ہے جس کے معنی لشکر اور فوجی چھاؤنی کے ہیں۔
جب ترک، عرب اور ایرانی سپاہی برصغیر کی سرزمین پر آئے تو وہ اپنے ساتھ اپنی زبان، اپنی عادات اور اپنی تہذیب وثقافت بھی ساتھ لائے۔ چھاؤنیوں میں مقامی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی۔ مقامی زبانوں میں فارسی کی شیرینی اور عربی کی چاشنی پہلے سے ہی موجود تھی۔ ان سب کے ملاپ سے ایک نئی زبان نے جنم لیا جسے "زبانِ اردوئے معلی” کہا گیا یعنی شاہی لشکر کی زبان۔ یوں اردو کی پیدائش کے ساتھ ہی ترکی زبان کا نام جڑ گیا۔
برصغیر میں ترک النسل فاتحین کی آمد اور خاص طور پر مغلیہ سلطنت اور عثمانی خلافت کے درمیان کئی صدیوں تک رشتہ قائم رہا۔ یہ رشتہ صرف خط و کتابت اور فاتح اور مفتوح کا ہی نہیں تھا بلکہ یہ دل کا رشتہ تھا۔ مسلمان خلافت کو اسلام کا قلعہ سمجھتے تھے۔ برصغیر کے علماء استنبول جاتے، وہاں کے صوفی برصغیر آتے۔ تاجر ایک دوسرے کے ملکوں میں تجارت کرتے۔ اسی آمد و رفت میں زبانیں بھی گھلتی ملتیں گئیں۔ اردو نے ترکی سے توپ ، چاقو، ، لاش، بہادر، یلغار جیسے الفاظ لیے اور ترکی نے بھی فارسی اور عربی کے راستے اردو کی خوشبو محسوس کی۔
ایک اندازے کے مطابق دس ہزار ( 10,000) سے زائد اردو اور ترکی زبان کے الفاظ آپس میں مشترک ہیں اور ان کے معانی اور مطالب ملتے جلتے ہیں ۔
1928ء سے پہلے تک ترکی زبان بھی اردو کی طرح فارسی رسم الخط لکھی جاتی تھی۔ اس لیے پرانے عثمانی فرمان اور اردو کے نسخے ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے تھے۔ انھیں پڑھنے والا آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔
اردو اور ترکی کی روح بھی ایک جیسی ہے۔ گرائمر کی مجموعی ساخت ملتی جلتی ہے ۔ دونوں زبانیں فاعل کو پہلے ، مفعول کو بعد میں اور فعل کو آخر میں لاتی ہیں۔ "میں کتاب پڑھ رہا ہوں” اور "Ben kitap okuyorum” میں یہی ترتیب ہے۔
دونوں میں فارسی اور عربی کا خزانہ مشترک ہے۔ محبت، قلم ، کتاب، دوست، حکومت، انصاف، عدالت جیسے الفاظ دونوں میں ایک ہی معنی کے ساتھ بولے جاتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی مماثلت تصوف اور شاعری میں ہے۔ مولانا رومی کو ترکیہ بھی اپنا مانتا ہے اور ہم پاکستانی بھی۔ اقبال کو ترکیہ میں "دوعونن شاعر” Doğunun Şair) یعنی "شاعر مشرق” کہا جاتا ہے۔ فیض کی نظمیں استنبول کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہی وہ رشتہ ہے جو سیاست سے بالاتر ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے ۔ اس سے اردو کو بھی ترکیہ میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ استنبول یونیورسٹی، انقرہ یونیورسٹی ، سلجوق یونیورسٹی اور مرمرہ یونیورسٹی میں اب اردو کے باقاعدہ شعبے ہیں۔ ترک طلبہ اردو سیکھ کر پاکستان آتے ہیں۔ وہ اقبال پڑھتے ہیں، غالب سمجھتے ہیں اور لاہور کی گلیوں میں اردو میں بات کر کے حیران کر دیتے ہیں۔
داغ دہلوی نے سچ کہا تھا ؛
اُردو ہے جس کا نام ، ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
دوسری طرف پاکستان میں نمل یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور یونس ایمرہ انسٹیوٹ ہر سال ہزاروں پاکستانیوں کو ترکی سکھاتا ہے۔ یہ آنا جانا صرف زبان کا نہیں، یہ تہذیب کا تبادلہ ہے۔
ترکیہ میں پاکستان کا سفارتخانہ ، قونصلیٹ اور ترکیہ کی یونیورسٹیاں ہر سال اردو کے مشاعرے اور مختلف پروگرام منعقد کرواتی ہیں۔ کتابوں کی نمائشیں لگتی ہیں۔
جب "ارطغرل” اور "عثمان” جیسے ڈرامے اردو میں ڈب ہوئے تو پورے پاکستان نے ترکیہ کی زبان، اس کا لباس، ثقافت اور ترکیہ کی تاریخ کو اپنے گھروں میں محسوس کیا۔ اس کے بعد ترکیہ کے ناشرین نے بھی اردو ادب کا دروازہ کھولا۔ منٹو کے افسانے، عصمت چغتائی کی کہانیاں اور بانو قدسیہ کے ناول اب ترکیہ میں ترجمہ ہو رہے ہیں۔ زبان کے ساتھ دل بھی ترجمہ ہو رہے ہیں۔
آج کی دنیا میں زبان ادب کے ساتھ ساتھ تجارت اور سفارت بھی ہے، یہ مستقبل ہے۔ جو ترک اردو جانتا ہے وہ ہمارے کروڑوں لوگوں کے دل تک پہنچ سکتا ہے۔ جو پاکستانی ترکی جانتا ہے وہ یورپ اور وسطی ایشیا تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے ترکیہ میں اردو کی تعلیم اب ضرورت بن گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کے علاوہ نجی ادارے بھی اردو کی کلاسز کا اہتمام رہے ہیں۔ ہر سال ترک طلبہ و طالبات پاکستان آتے ہیں تاکہ وہ اردو کے ساتھ برصغیر کی تہذیب کو بھی سمجھ سکیں۔ اسی طرح ہزاروں پاکستانی طلبا وطالبات تعلیم حاصل کرنے کے لیے ترکیہ کا رُخ کر رہے ہیں ۔
ہمیں اس رشتے کو مزید گہرا کرنا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ تراجم ہونے چاہییں۔ ترکیہ کے نوجوان شاعروں کو اردو میں پڑھا جائے اور اردو کے نئے لکھاریوں کو ترکیہ میں متعارف کرایا جائے۔ ڈرامے، فلمیں، دستاویزات اور کتابیں زبان کا سب سے بڑا پرچار ہیں۔ جب ایک ترک بچہ اردو نظم سنے گا اور ایک پاکستانی بچہ ترکی لوک گیت گائے گا تو دونوں کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں ہو گی۔ قریب اور محبت پروان چڑھے گی ۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ اردو اور ترکی کا رشتہ انمٹ اور خون کا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ لشکر سے شروع ہوا تھا، درباروں سے ہوتا ہوا خانقاہوں تک گیا اور آج یونیورسٹیوں اور ڈراموں تک پہنچ گیا ہے۔ یہ رشتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ الفاظ کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ جب دل ایک ہوں تو زبان خود راستہ بنا لیتی ہے۔ ترکیہ میں اردو کی ترویج اور پاکستان میں ترکی کی تعلیم اسی راستے کی نئی منزلیں ہیں ۔ اگر ہم نے اسے سنبھال لیا تو ہماری آنے والی نسلیں فخر سے کہیں گی کہ ہماری زبان ، تاریخ اور تہذیب وثقافت بھی ایک ہیں۔ ہم ایک ہی قوم ہیں جو دو ملکوں میں آباد ہے لیکن ہمارے دل اکٹھے دھڑکتے ہیں ۔
