صدیوں پرانے تاریخی ورثے کو محفوظ کرکے نئی نسلوں تک منتقل کرنے کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ترکیہ نے استنبول میں ایک اور اہم ثقافتی منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے تاریخی توپ کاپی محل میں دارالفنۂ عامرہ کے پانچ نئے عجائب گھروں کا افتتاح کر دیا، جہاں عثمانی دور کی تاریخ، فنون اور صنعتی ترقی سے جڑے 10 ہزار 500 نوادرات عوام کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔

یہ عجائب گھر توپ کاپی محل کے پہلے صحن میں واقع سابق شاہی ٹکسال کے احاطے میں قائم کیے گئے ہیں، جہاں سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں سکّے ڈھالے جاتے تھے۔ اس تاریخی کمپلیکس کی تعمیراتی تاریخ 1727ء تک جاتی ہے، جبکہ بعد کے ادوار میں اس کی عمارتوں میں توسیع اور تبدیلیاں ہوتی رہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
وقت گزرنے کے ساتھ یہ عمارتیں اپنے اصل استعمال سے دور ہو گئیں اور بعض حصے خستہ حالی کا شکار ہوئے۔ 2019ء میں توپ کاپی محل کے انتظامی امور قومی محلات کی انتظامیہ کے سپرد ہونے کے بعد اس کمپلیکس کی بحالی اور نئے استعمال کے لیے منصوبہ بندی کی گئی۔ سات سالہ منصوبے کے دوران 17 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلی سات عمارتوں اور 46 ہالز کو پانچ خصوصی عجائب گھروں میں تبدیل کیا گیا۔

ان عجائب گھروں میں شاہی ظروف، تاریخی ہتھیار، اسلامی خطاطی، قدیم نقشے اور سکّے ڈھالنے کی مشینری شامل ہیں۔ ان میں خطاطی کے دو ہزار سے زائد فن پارے بھی شامل ہیں، جن میں سے کئی پہلے محفوظ ذخائر میں رکھے گئے تھے۔ تقریباً 500 صنعتی آلات اور مشینیں عثمانی دور کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی تاریخ کو نمایاں کرتی ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ یہ عجائب گھر اپنے آباؤ اجداد اور تاریخ کے حوالے سے ذمہ داری اور حساسیت کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق تاریخی ورثے کی حفاظت کے ساتھ اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یہ منصوبہ ترکیہ میں تاریخی عمارتوں کو محفوظ کرنے اور انہیں عوامی و ثقافتی مقاصد کے لیے دوبارہ فعال بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ دارالفنۂ عامرہ کی بحالی کے ذریعے ایک سابق شاہی ٹکسال کو ایسے ثقافتی مرکز میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں سلطنتِ عثمانیہ کے فن، عسکری تاریخ اور صنعتی ترقی کے مختلف پہلو ایک ہی مقام پر دیکھے جا سکیں گے۔
