turky-urdu-logo

فلسطین اسرائیل تنازعے کے خاتمے کے لئے ضامن بننے کو تیار ہیں صدر ایردوان کی انقرہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات میں پیشکش

فلسطین کے صدر  عباس , صدر ایردوان کی دعوت پر ترکیہ کے دورے پر ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان اور فلسطین کے صدر محمود عباس نے صدارتی کمپلیکس میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

صدر ایردوان نے فلسطین کے صدر عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات سے یہ بات زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل فلسطین مسئلہ کے منصفانہ حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

اس کے باوجود، پائیدار امن کا واحد راستہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔

ترکیہ  میں صدر عباس اور ان کے وفد کی میزبانی کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ  اور ترک قوم نے ہمیشہ فلسطین کاز کا دفاع کیا ہے، فلسطین ہمیشہ ہمارے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

میرے بھائی صدر عباس  آخری بار گزشتہ سال جولائی میں ہمارے ملک آئے تھے۔

انکا کہنا تھا آج کی بات چیت کے دوران، ہم نے فلسطین کی تازہ ترین صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہمارے فلسطینی بھائی اور بہنیں اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔  7 اکتوبر سے غزہ  میں بے گناہ لوگوں کے خلاف جاری حملوں میں 31 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔72 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ 20 لاکھ کے قریب فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ 2.3 ملین فلسطینیوں کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اسرائیل نہ صرف غزہ کے لوگوں کو بھوکا مار کر قتل عام کر رہا ہے بلکہ بے گناہوں پر بم برسا کر بھی انہیں ختم کر رہا ہے۔ ہم پچھلی صدی کی سب سے بڑی بربریت کا  151 دنوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ مغربی طاقتوں کی لامحدود حمایت سے نیتن یاہو اور اس کی دیوانی انتظامیہ فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کر رہی ہے۔

ترک قوم کی جانب سے فلسطینی عوام کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کے لیے اللہ کی رحمت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

 

Alkhidmat

Read Previous

اسرائیلی محاصرہ توڑ کر لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانا ناگزیر ہے،حاقان فیدان

Read Next

وزیر خارجہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے

Leave a Reply