ترکیہ نے میلگم کارویٹ سیریز کا پہلا بحری جنگی جہاز ، پی این ایس بابر ، ایک باوقار تقریب میں پاک بحریہ کے حوالے کر دیا۔
پی این ایس میلگم کلاس شپس، جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بحری جنگی جہاز ہیں۔

جنہیں جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت پاکستان بحریہ استعمال کرے گی ۔
اس بحری جنگی جہاز پر 104 افراد کا عملہ سوار ہو سکتا ہے، اس کی رفتار 24 ناٹیکل مائیلز ہے، جبکہ کمبائنڈ ڈیزل، اور الیکٹرک انرجی کے ذریعے یہ بحری جنگی جہاز 4500 ناٹیکل مائلز سفر کرسکتا ہے۔
اس سلسلے میں استنبول کے نیول شپ یارڈ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ترکیہ کے وزیرِ دفاع یشار گیولر، پاکستانی نگران وزیر دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ انوار علی حیدر اور پاکستانی امیر البحر محمد امجد خان نیازی نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات روز بروز مزید بہتر ہورہے ہیں اور ہمارے مشترکہ دفاعی منصوبے، اس دوستی کا اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے ترک زلزلوں کے بعد پاکستان کی سپورٹ کا شکریہ بھی ادا کیا۔
پاکستانی نگران وزیرِ دفاع نے کہا کہ ترکیہ کی وزارتِ دفاع، پاکستانی وزارتِ دفاع اور پاک بحریہ کے مشترکہ منصوبے قابلِ تعریف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ پاکستان تعلقات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کا تعاون ہمیشہ جاری رہنا چاہیے ۔

جبکہ پاکستانی نیول چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میلگم بابر شپ، جدید ترین بحری جنگی جہاز ہے جو پاکستانی دفاع میں ایک بہترین اضافہ ہے ۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بحری دفاع میں تعاون کی خصوصی تحسین بھی کی۔
۔
پاکستان اور ترکیہ کے مابین چار میلگم کارویٹس کی مشترکہ تیاری کا معاہدہ 2018 میں ہوا تھا، جس کے آخری بحری جہاز میلجم کلاس طارق کی تیاری رواں سال 2023 میں مکمل ہوئی تھی۔
