(تحریر: محمّد حسّان)
مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے خود کش حملے ،کار بم دھماکے ، رومال ، پتھر اور غلیل ۔۔۔ کبھی پاکستانی سرخوں کے نزدیک۔۔۔آزادی ، حریت اور مزاحمت کے استعارے تھے۔
کامریڈ جوان ، لیلیٰ خالد کی بہادری کے سحر میں مست و رقصاں ہوتے تھے ، اور ابونِدال کو دیو مالائی کردار مانتے ہوئے اس کے قصے فخریہ سنایا کرتے تھے ۔۔ ترقی پسند مصنفین مزاحمتی ادب تخلیق کرتے اور فیض ان کے نغمے گنگنایا کرتے ۔
ہم جیتیں گے
حقا ہم اک دن جیتیں گے
وائے حیرت ۔۔اب ایسا بھی کیا بدلا ہے کہ موجودہ دور کے لبرل اور سیکولر کہلانے والے ماضی کے سرخوں اور انقلابیوں کے سب سوتے ہی خشک ہو گئے ہیں ؟ لب سل گئے یا زبان پر چھالے پڑ گئے ۔۔۔ ؟
فلسطین میں تو آج بھی کربلا کا میدان سجا ہوا ہے ۔۔۔ رومال پتھر اور غلیل آج بھی مقبوضہ بیت المقدس کے اطرف میں مزاحمت کی علامت ہیں جبکہ غزہ کے مجاہد بے سروسامانی کے عالم میں دیسی ساختہ راکٹ اور فولادی ایمان و عزم کے ساتھ اسرائیلی وحشت سے برسر پیکار ہو کر قربانی اور جدوجہد کی لازوال داستانیں رقم کر رہےہیں ۔
تو تبدیل کیا ہوا ہے ۔۔۔؟
ہاں صرف تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب کے مزاحمت کاروں نے اس جنگ کو اپنی قومیت اور زمین کی جنگ سے بلند رتبہ دے کر اسے اپنے ایمان کی جنگ قرار دیا ہے ۔ اب کے مزاحمت کاروں کی راتیں بار اور کلبوں کی بجائے مساجد اور مُصلّوں پر گرزتی ہیں ۔ اب غزہ کی گلیاں اللہ غایتا رسول ھادینا قرآن دستورنا اور جہاد سبیلنا کے نعروں سے گونجتی ہیں ۔۔
شیخ احمد یاسین ،اور رنتیسی ، اسلامی فکر کے نہ ہوتے تو سرخوں کے نزدیک چی گویرا سے تین گنا بڑے ہیرو کہلاتے ۔
اسرائیل دہشت گرد اور غاصب تو شروع جیسا ہی ہے البتہ بے باک پہلے سے بھی زیادہ ہوچکا ہے ۔۔
اور ادھر ہمارے سرخ پیلے نظریاتی علمبردار کی انقلابیت کمپومائزنگ ہوچکی ہے ۔ہمارے ملک میں کبھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہوا چلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی فلسطینیوں کی مزاحمت پر ہی سوال اٹھانے کی مکروہ حرکت ہونے لگتی ہے ۔۔
اس معاملے میں سرخے ، لبرلز اور سیکولرز ہی نہیں ۔۔۔جبہ و دستار پہنے بہت سے ملا و مقتدی بھی شامل ہوتے ہیں
پہلا روس ،امریکہ اور بھارت سے متاثر طبقہ ہے جبکہ دوسرے سعودیہ اور ایران نواز ملا ہیں ۔
یہ دونوں طبقات جب اپنے آقاوں کی چاکری میں رائے سازی کرتے ہیں تو پاکستان کی عام سادہ پڑھی لکھی اکثریت تحقیق کی کمی کے باعث ان کی ہمنوا بننے لگتی ہے ۔
آج اسرائیل ثابت کرچکا ہے کہ اسے تسلیم کرنے والے اس پر رتی برابر اثر انداز نہیں ہوسکتے ہیں ۔ عرب ممالک پریشان بھی ہیں اور مستقبل بھی مزید پشیمان بھی ہونگے ۔ مغربی جمہوریت اور انصاف پسندی کے نعروں پر خود اسرائیل نے اپنی ہی بمباری سے اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ امریکہ کی منافقت بالکل ننگی ہوچکی ہے ۔
آج واشنگٹن ، نیویارک اور ڈیلس میں فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد کی ریلیاں نکل گئیں ۔ لندن ، سڈنی اور برلن میں اسرائیل مخالف بڑے بڑے جلسے ہوچکے ۔ فرانس میں مظاہرین آزاد فلسطین کے نعرے لگاتے پولیس اور پانی کی بوچھاڑ کا مقابلہ کرتے رہے ۔۔۔
دنیا بھر کے انصاف پسند اور مغربی ملکوں میں بسنے والے گورے ،کالے ، ایشیائی ، عرب سب ‘آزاد فلسطین’ کے حق میں یک زبان ہو کر نعرہ زن ہیں
ترکی میں حکومتی و عوامی سطح پر بیداری واضح دکھائی دے رہی ہے ۔۔ قطر میں اسمائیل ہانیہ کا استقبال اور رونمائی باعث شرف ہے ۔
مگر اسلامی ممالک اور خاص کر پاکستان میں عجیب سا سناٹا ہے ۔
پاک حکومت کا سفارتی و اصولی موقف تو برقرار ہے مگر عوام کس کنفیوژن میں ہے ؟
دراصل یہاں کاٹھے انگریز اور غلام ذہن اشرافیہ ہے ۔۔۔مسلک، فرقے میں بٹے ،کہنے کو غیر مقلد مگر تقلید پرست ملا ہیں ۔۔۔اور سیاسی لیڈروں کو بتوں کی طرح پوچنے والے مجاور کارکن ہیں ۔۔
ان سب کو پتھر غلیل اور راکٹ ۔۔آزادی ،حریت اور شہادت ۔۔ کے معنی سمجھنے اور ان کے مفہوم سے آشنائی میں وقت لگے گا، کہ یہ ابھی سودو زیاں کے حساب میں غلطاں ہیں۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
