fbpx
ozIstanbul

اسرائیلی قید سے فلسطینی شہری کی 35 سال بعد رہائی

اسرائیل نے فلسطین کے ایک شہری رشدی ابو مخ کو 35 سال بعد رہا کر دیا ہے۔ انہیں 1984 میں ایک اسرائیلی فوجی کو اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جس وقت ابو مخ کو سزا دی گئی اس وقت ان کی عمر 23 سال تھی جو اب 58 برس کے ہو چکے ہیں۔

ابتدا میں اسرائیلی عدالت نے انہیں تاحیات قید کی سزا کا حکم سنایا تھا جو بعد میں 35 سال کر دی گئی تھی۔ رشدی ابو مخ کو گذشتہ ماہ رہا ہونا تھا لیکن اسرائیل کی عدالت نے انہیں مزید 12 دن قید کی سزا کا حکم سنایا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 35 سال پہلے رشدی ابو مخ نے ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کی تھی لہذا انہیں مزید 12 دن کی سزا کا کاٹنی پڑی اور جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا۔

رشدی ابو مخ کو ان کے تین ساتھیوں ابراہیم ابو مخ، ولید دقہ اور ابراہیم بیادسہ سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ ابھی صرف رشدی ابو مخ کو رہا کیا گیا ہے تاہم ان کے تینوں ساتھی ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور انہیں فی الحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیل نے 2016 میں حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں ان چاروں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ حماس نے اسرائیلی فوجی گیلات شالیت کے بدلے چاروں کی رہائی کی پیشکش کی تھی۔

رشدی ابو مخ کی قید کے دوران ان کے والدین اور ایک بھائی انتقال کر چکے ہیں۔ اپنی رہائی کے فوری بعد رشدی ابو مخ اپنے والدین اور بھائی کی قبر پر گئے اور وہاں فاتحہ خوانی کی۔

مقتول اسرائیلی فوجی کے خاندان نے اسرائیلی وزیر داخلہ کو رشدی ابو مخ کی رہائی پر نظرثانی کرنے اور انہیں دوبارہ جیل میں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رشدی ابو مخ کی اسرائیلی شہریت کو منسوخ کیا جائے۔ رشدی ابو مخ اسرائیل کے عرب شہری ہیں۔

پچھلا پڑھیں

صدر ایردوان اسرائیل کو تنہا اور اس کے دشمنوں کو مضبوط کر رہے ہیں، اسرائیلی میڈیا

اگلا پڑھیں

ترک بحری فوج کے ریٹائرڈ آفیسرز کا رات کی تاریکی میں اعلامیہ فوج کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے، صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے