fbpx

ترک بحری فوج کے ریٹائرڈ آفیسرز کا رات کی تاریکی میں اعلامیہ فوج کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترک بحری فوج کے ریٹائرڈ ایڈمرلز نے رات کی تاریکی میں جو اعلامیہ جاری کیا ہے وہ فوج کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے۔ وہ انقرہ کے صدارتی محل میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

ترکی کے 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز نے اتوار کی رات کو ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں حکومت کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ "مانٹریوکس کنونشن” سے دستبرداری کا اعلان نہ کرے اور استنبول میں نئی نہر کی تعمیر سے باز رہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کہ 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز رات کی تاریکی میں ایک اعلامیہ جاری کریں۔ اسے آزادی اظہار رائے نہیں کہا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس اقدام کو قبول نہیں کیا جاتا ہے۔

صدر ایردوان نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ریٹائرڈ ایڈمرلز کے اس اقدام کی سخت موقف اختیار کریں۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ جمہوریت کا ساتھ دیں کیونکہ ریٹائرڈ ایڈمرلز کو حکومتی معاملات میں دخل اندازی دینا اور حکومت کو کسی کام سے روکنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ریٹائرڈ ایڈمرلز کا یہ مطالبہ ترک فوج کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ اگر ریٹائرڈ ایڈمرلز اس طرح کا کوئی اعلامیہ جاری کرتے ہیں تو اس کو ترک مسلح افواج کے خلاف ایک سازش سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اعلامیئے اور ریٹائرڈ ایڈمرلز کا حکومت مخالف اتحاد دراصل جمہوریت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حکومت کسی بھی ریٹائرڈ فوجی افسر کو اس طرح کے اقدامات کی ہرگز اجازت نہیں دے گی اور ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "مانٹریوکس کنونشن” کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن مستقبل میں اس کے کئی متبادل آپشنز موجود ہیں جو ترکی کے لئے بہتر ثابت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بہتر متبادل معاہدے تک حکومت مانٹریوکس کنونشن پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریٹائرڈ ایڈمرلز حکومت کو اس پر کوئی تجویز دینا چاہتے تو اس کا ایک بہتر طریقہ موجود تھا لیکن رات کی تاریکی میں حکومت کو معاہدہ ختم کرنے سے خبردار کرنے کا مطلب ہے کہ کچھ عناصر حکومتی معاملات میں دخل اندازی کرنا چاہتے ہیں اور ترک فوج کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانا چاہتے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

صدر ایردوان نے واضح کیا کہ حکومت مانٹریوکس معاہدے سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونا چاہتی لیکن اگر مستقبل میں کوئی بہتر معاہدہ سامنے آتا ہے تو حکومت اس پر ضرور غور کرے گی۔

انہوں نے مانٹریوکس کنونشن اور استنبول میں نئی نہر کی تعمیر کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کو بہت بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ حکومت مستقبل میں باسفورس سے گزرنے والے بحری تجارتی قافلوں کو کسی ممکنہ حادثے سے بچانے کے لئے ایک نہر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مصر کی سوئز نہر میں آنے والے حادثے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس استنبول کینال کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ریٹائرڈ ایڈمرلز کے اعلامیئے سے پہلے ترکی کے 126 سابق سفارتکاروں نے بھی حکومت سے مانٹریوکس کنونشن سے دستبردار نہ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

انقرہ کے پراسیکیورٹر آفس نے 104 ریٹائرڈ ایڈمرلز کے خلاف ترکی کے آئین کے آرٹیکل 1/316 کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔ اعلامیئے پر دستخط کرنے والے 10 ریٹائرڈ ایڈمرلز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر آفس کا کہنا ہے کہ جن 10 ریٹائرڈ ایڈمرلز کو اس لئے گرفتار کیا گیا ہے کہ کہیں وہ ثبوت ضائع نہ کردیں۔ حکومت نے 4 ریٹائرڈ ایڈمرلز کو ان کی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے فی الحال گرفتار نہیں کیا ہے۔ تاہم ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 3 دن کے اندر انقرہ پولیس ڈائریکٹوریٹ میں آ کر رپورٹ کریں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ صدر ایردوان نے خواتین حقوق کے یورپی معاہدے "استنبول کنونشن” سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا جس کے بعد میڈیا میں بحث چھڑ گئی تھی کہ حکومت دیگر بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار نہ ہو جائے۔ انہیں خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے ریٹائرڈ ایڈمرلز نے حکومت کو خبردار کیا کہ مانٹریوکس کنونشن سے دستبرداری نہ کی جائے لیکن ان کا طریقہ کار بہتر نہیں تھا۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

اسرائیلی قید سے فلسطینی شہری کی 35 سال بعد رہائی

اگلا پڑھیں

چھوٹی آیا صوفیہ سیاحوں کی توجہ کا اہم مرکز

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے