fbpx
ozIstanbul

‘سقوطِ ڈھاکہ’ کے موضوع پر پاکستان میں فلم ریلیز

کورونا کیسز میں نمایاں کمی کے بعد رواں ماہ نومبر کے آغاز میں سینماؤں کے کھلنے کے تین ہفتے بعد پہلی پاکستانی فلم کھیل کھیل میں ریلیز کردی گئی۔

پاکستان میں تقریبا دو سال بعد کوئی مقامی فلم ریلیز کی گئی ہے، اس سے قبل سال 2020 کے آغاز میں پاکستانی فلمیں ریلیز کی گئی تھیں۔

پاکستان بھر میں کورونا کی وبا کے باعث مارچ 2020 کے آغاز میں سینما بند کردیے گئے تھے جو اکتوبر 2021 کے وسط تک بند رہے تھے مگر یکم نومبر کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی سینما کھول دیے گئےتھے۔

سینما کھلنے کے تین ہفتوں بعد 19 نومبر کو پاکستان بھر میں فلم ساز نبیل قریشی کی پولیٹیکل تھرلر فلم ’کھیل کھیل میں‘ ریلیز کردی گئی۔

کھیل کھیل میں‘ کی ریلیز کا اعلان گزشتہ ماہ ہی کیا گیا تھا اور اب ممکنہ طور پر اگلے ماہ مزید مقامی فلمیں ریلیز کی جائیں گی۔

’کھیل کھیل میں‘ کو کراچی، لاہور، اسلام آباد، حیدرآباد، فیصل آباد، گجرات اور ملک کے دیگر شہروں کے سینماؤں میں ریلیز کردیا گیا، تاہم سینماؤں میں اتنا زیادہ رش نہیں دیکھا جا رہا۔

سینماؤں کا رخ کرنے والے افراد کا ویکسینیشن ریکارڈ چیک کرنے سمیت انہیں فیس ماسک پہننے کی ہدایات بھی کی جا رہی ہیں جب کہ سماجی فاصلے کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

’کھیل کھیل میں‘ میں مرکزی کردار سجل علی اور بلال عباس نے ادا کیے ہیں اور فلم کو فضا علی میرزا نے پروڈیوس کیا ہے۔

فلم میں علی ظفر، شہریار منور اور جاوید شیخ، منظر صہبائی اور ثمینہ احمد سمیت دیگر اداکاروں نے بھی کردار ادا کیے ہیں۔

فلم کی کہانی ’سقوط ڈھاکا‘ کے پس منظر کے گرد گھومتی ہے، فلم میں یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سقوط ڈھاکا پر تھیٹر پیش کرکے بعض حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

فلم میں پاکستان ٹوٹنے اور بنگلادیش بننے کے واقعات کو فکشنل انداز میں دکھایا گیا ہے جب کہ ڈھاکا میں پھنس کر رہ جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار بھی دکھائی گئی ہے۔

مذکورہ فلم نبیل قریشی کی بھی پہلی پولیٹیکل تھرلر فلم ہے جب کہ ’کھیل کھیل میں‘ حالیہ دور میں متنازع مسئلے پر بنائی جانے والی بھی پہلی پاکستانی فلم ہے۔

پاکستانی فلموں میں پاک- بھارت کشیدگی اور مسائل کو تو دکھایا جاتا ہے، تاہم پہلا موقع ہے کہ کسی فلم میں ’سقوط ڈھاکا‘ کے واقعے کو پیش کیا گیا ہے۔

پچھلا پڑھیں

ایک سال کےدوران ایمازون جنگلات کی کٹائی میں 22 فیصد اضافہ

اگلا پڑھیں

پاکستان میں ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے