fbpx
ozIstanbul

ایک سال کےدوران ایمازون جنگلات کی کٹائی میں 22 فیصد اضافہ

برازیل کے ایمازون جنگلات کی کٹائی میں ایک سال کے دوران تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ 15 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے گزشتہ دنوں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے بعد جیئر بولسونارو کی حکومت کے ان وعدوں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں جن میں انہوں نے جنگلات کے تحفظ کے لیے ’موثر‘ اقدامات کے وعدے کیے تھے۔

برازیل کے قومی خلائی تحقیقی ادارے (اے این پی ای) کے ایک اندازے کے مطابق اگست 2020 سے جولائی 2021 کے دوران 13 ہزار 235 مربع کلومیٹر جنگلات کو ختم کردیا گیا، اس سے قبل 06-2005 میں 14 ہزار 286 مربع کلومیٹر کو صاف کردیا گیا تھا۔

حکومت کے تحت یہ لگاتار تیسری مرتبہ ہے کہ ایمازون کے جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر الزامات عائد کرتی ہیں کہ حکومتی عہدیدار کاشتکاری اور کان کنی کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جس کے باعث جنگلات کی کٹائی تیزی سے جاری ہے۔

وزیر ماحولیات جواکن لیئچی نے اعتراف کیا کہ اعداد و شمار ’ایک چیلنج‘ کی مانند ہیں اور انہوں نے ’ماحولیاتی جرائم کے خلاف زیادہ مؤثر اقدامات کے عزم کا اظہار‘ کیا۔

انہوں نے زور دیا کیا کہ اعداد و شمار ’گزشتہ چند مہینوں کی صورتحال کی قطعی عکاسی نہیں کرتے‘۔

دوسری جانب گزشتہ ہفتے آئی این پی ای نے کہا تھا کہ اکتوبر میں جنگلات کی ریکارڈ کٹائی ہوئی، جس میں ریو ڈی جنیرو شہر کے نصف سے زیادہ رقبے کو صاف کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مزید فوجیوں کو تعینات کر کے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

وزیر انصاف و عوامی تحفظ اینڈرسن ٹوریس نے کہا وہ لوگ جو اب بھی ماحولیاتی جرائم میں ملوث ہیں ہم انہیں خبردار کرتے ہیں کہ برازیل کی ریاست پوری طاقت کے ساتھ ایمیزون میں داخل ہو جائے گی۔

یاد رہے برازیل، گلاسگو کوپ 26 کی سربراہی اجلاس میں 2030 تک جنگلات کی کٹائی کو ختم کرنے کے بین الاقوامی عہد پر دستخط کرنے والوں میں بھی شامل ہے۔

جیئر بولسونارو نے 2028 تک جنوبی امریکا جیسے بڑے ملک، جس میں ایمیزون کا 60 فیصد حصہ ہے، میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ہدف کو دو سال تک آگے بڑھایا۔

انتہائی دائیں بازو کے صدر جنوری 2019 میں ماحولیات مخالف ایک مضبوط پیغام کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے اور ان پر این جی اوز، مقامی گروپس اور سیاسی اپوزیشن نے ماحولیاتی تحفظ کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اے این پی ای کے مطابق، اگست 2018 اور جولائی 2019 کے درمیان، ایمیزون کا 10 ہزار 129 مربع کلومیٹر حصہ صاف کیا گیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔

اگلے مرحلے میں سال 2019 اور 2020 کے دوران 10 ہزار 851 مربع کلومیٹر علاقے میں جنگلات کی کٹائی کی گئی جو 7 فیصد اضافی تھا، ایمیزون کے جنگلات میں آتشزدگی کے باوجود کان کنوں، غیر قانونی درخت لگانے والوں اور کھیتی باڑی کرنے والوں کے خلاف مہنگے فوجی آپریشن بھی کیے گئے۔

پچھلا پڑھیں

600 سال بعد طویل ترین جزوی چاند گرہن

اگلا پڑھیں

‘سقوطِ ڈھاکہ’ کے موضوع پر پاکستان میں فلم ریلیز

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے