تحریر : اسلم جگر بھٹی
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پرانے زمانے کے اتحاد اب اپنی جگہ نئی شراکت داریوں کو دے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی دفاعی تعاون کا معاہدہ سامنے آیا ہے۔ یہ معاہدہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں، بلکہ تینوں ممالک کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے خطے کی سلامتی کے لیے مل کر سوچیں گے اور مل کر کام کریں گے۔
اگر ہم تینوں ممالک کی صلاحیتوں کو دیکھیں تو یہ ایک دوسرے کے لیے تکمیل کا درجہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک مضبوط اور تجربہ کار فوج ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت، پاکستان نے مشکل وقت میں ثابت قدمی دکھائی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کی دفاعی صنعت بھی اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔ یہاں جہاز، میزائل اور بکتر بند گاڑیاں بن رہی ہیں۔ جغرافیائی طور پر پاکستان بحیرہ عرب کے کنارے پر ہے اور جنوبی ایشیا کو خلیج سے ملانے والی ایک قدرتی صلاحیت کا حامل ہے۔
ترکیہ کی بات کریں تو وہ ایک جدید فوج اور بڑی دفاعی صنعت کا مالک ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ترکیہ نے ڈرون، بحری جہاز اور فضائی دفاع کے نظام میں بہت ترقی کی ہے۔ آج ترکیہ دنیا کو دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کر رہا ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔
سعودی عرب کے پاس مالی وسائل اور توانائی کی طاقت ہے۔ خلیج کی سلامتی میں سعودی عرب کا کردار مرکزی ہے۔ "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب چاہتا ہے کہ وہ اپنا دفاعی سامان خود بنائے اور مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری کرے۔ یہی سوچ پاکستان اور ترکیہ کی بھی ہے۔
جب یہ تینوں قوتیں ایک جگہ جمع ہوں گی تو اس کے اثرات نہ صرف ان کے اپنے خطوں بلکہ پوری دنیا پر بھی پڑیں گے۔ سب سے پہلے یہ معاہدہ اس خطے میں امن کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ اگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب بحران کے وقت ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور مل کر لائحہ عمل بنائیں تو بہت سے مسائل بڑھنے سے پہلے حل ہو سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں سمندری گزرگاہوں کی حفاظت بھی اسی تعاون سے ممکن ہوگی کیونکہ یہاں سے دنیا کی تجارت منسلک ہے۔
دوسرا اہم پہلو دفاعی صنعت ہے۔ تینوں ملک یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہر چیز دوسروں سے خریدنے کے بجائے خود بنائیں۔ اس معاہدے کے بعد وہ مشترکہ تحقیق کر سکتے ہیں، ایک ساتھ فیکٹریاں لگا سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے تجربہ سیکھ سکتے ہیں۔ ڈرون، اینٹی ڈرون نظام، میزائل دفاع، بحری جہاز اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں مل کر کام کرنے سے لاگت کم ہوگی اور نوجوان انجینئرز کو بھی موقع ملے گا۔
تیسرا پہلو دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف جنگ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کو اس کا طویل تجربہ ہے۔ سعودی عرب بھی علاقائی خطرات سے دوچار رہا ہے۔ اگر تینوں ملک معلومات کا تبادلہ کریں اور مشترکہ تربیت کا اہتمام کریں تو اس سے ان کی اجتماعی قوت بڑھے گی۔
چوتھا پہلو قدرتی آفات اور انسانی ہمدردی ہے۔ زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور مصیبت آئے تو تینوں ممالک کی افواج مل کر امدادی کام کر سکتی ہیں۔ اس سے عوام میں بھی قربت اور محبت بڑھے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ دنیا اس معاہدے کو کس نظر سے دیکھے گی؟۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ اب کوئی ایک بڑی طاقت سب مسائل حل نہیں کر سکتی۔ اس لیے اکثر ممالک چھوٹے گروپ بنا کر اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔
یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے امریکہ، چین، روس اور یورپی یونین سے پہلے بھی گہرے تعلقات ہیں اور آگے بھی رہیں گے۔ یہ معاہدہ صرف یہ کہتا ہے کہ ہم اپنی سلامتی کے لیے تمام راستے کھلے رکھیں گے اور خود انحصاری کی طرف بڑھیں گے۔
مسلم دنیا کے لیے یہ معاہدہ ایک اچھی مثال ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم ممالک اگر چاہیں تو فرقے اور سیاست سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفاد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں۔
یقیناً اس معاہدے کی کامیابی کے لیے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ سب سے پہلے اسے کسی کے خلاف بلاک نہ بنایا جائے۔ دوسرے ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی گنجائش دی جائے۔ دوسرا یہ کہ دنیا کو واضح طور پر بتایا جائے کہ اس کا مقصد دفاع ہے نہ کہ جارحیت۔ تیسرا یہ کہ اسے صرف بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی قدم اٹھائے جائیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی منصوبے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ہی یہ معاہدہ مضبوط ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا سہ فریقی یہ دفاعی معاہدہ ایک نئی امید ہے۔ اگر اس پر سنجیدگی سے عمل کیا گیا تو یہ نہ صرف اس خطے میں استحکام لائے گا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہو گا، معیشت کو تقویت دے گا اور مسلم دنیا کو ایک نیا اعتماد حاصل ہو گا۔
آج کے دور میں سلامتی کا مطلب اکیلے لڑنا نہیں بلکہ مل کر کھڑا ہونا ہے۔ ان تینوں ممالک نے وہی راستہ چنا ہے۔
اسلم جگر بھٹی کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ” ترکیہ اردو ” کے لیے اکثر کالم تحریر کرتے رہتے ہیں۔
