Turkiya-Logo-top

پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق امریکی میڈیا سی این این کے الزامات مسترد کر دیے

امریکی میڈیا ادارے سی این این کی رپورٹنگ پر پاکستان کی حکومت نے تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے سزا یافتہ قیدی (عمران خان) سے متعلق تنہائی، ناروا سلوک، خاندان سے رابطے میں رکاوٹ اور مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ متعلقہ شخص کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ بااختیار عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق قیدی کو پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کے ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کی قید پاکستان پریزن رولز، عدالتی احکامات اور ہائی پروفائل قیدی کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کے تحت ہے۔

پاکستانی حکومت نے اس الزام کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو بطور سزا تنہائی میں رکھا جا رہا ہے یا اسے بنیادی سہولیات سے محروم کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق قیدی کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسے گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان رکھنے کی بھی اجازت ہے، جبکہ مناسب غذائی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

حکومت کے مطابق قیدی کے لیے ایک علیحدہ کمپاؤنڈ موجود ہے، جس میں سونے، صفائی ستھرائی اور ورزش کی سہولیات شامل ہیں۔

سرکاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قیدی کو الگ سے تیار کیا جانے والا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہے۔

حکومت نے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو مکمل طور پر تنہا کر دیا گیا ہے یا اسے خاندان سے رابطے سے محروم رکھا گیا ہے۔

سرکاری جیل ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کا کہنا ہے کہ قید کے بعد سے تقریباً 198 ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں 900 سے زائد افراد شریک ہوئے۔

ان افراد میں قیدی کی بہنیں، خاندان کے دیگر افراد، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندے اور دیگر منظور شدہ افراد شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق قیدی کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی بھی اجازت رہی ہے، جبکہ آخری ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔

مزید برآں، سرکاری ریکارڈ میں حالیہ دنوں کے دوران خاندان کے افراد سے ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق 18، 19 اور 25 اگست 2026 کو قیدی کی بہنوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

حکومت نے اپنے ردعمل میں جیل ریکارڈ میں موجود ٹیلی فونک رابطوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق پاکستان اور بیرونِ ملک موجود خاندان کے افراد سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے ریکارڈ پر موجود ہیں۔

حکومت نے خاص طور پر 21 مارچ 2026 کو قیدی کی اپنے ایک بیٹے سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کا حوالہ دیا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ریکارڈ اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا کہ قیدی کو مکمل طور پر خاندان سے الگ کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی حکومت نے قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

حکومت کے مطابق قید کے دوران قیدی کے تقریباً 30 طبی معائنے کیے جا چکے ہیں۔

ان طبی معائنوں میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور میڈیکل بورڈز نے حصہ لیا، جبکہ مختلف طبی اداروں سے بھی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

سرکاری بیان میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال سمیت مختلف طبی اداروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے قیدی کا طبی معائنہ کرتے رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق قیدی میں ریٹینا کی بیماری کی تشخیص کے بعد ماہرین نے اس کا خصوصی علاج کیا۔

سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ علاج کے دوران آنکھ میں anti-VEGF کے پانچ intravitreal injections لگائے گئے۔

اس کے علاوہ ریٹینا کی امیجنگ، ادویات اور بعد ازاں فالو اَپ معائنے بھی کیے گئے۔

حکومت کے مطابق جولائی 2026 اور 21 اگست 2026 کو ہونے والے معائنوں سمیت مختلف طبی جائزوں میں قیدی کی حالت مستحکم پائی گئی اور کسی شدید یا غیر زیرِ علاج بگاڑ کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

حکومت نے اپنے مؤقف کے حق میں قیدی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا بیان کا بھی حوالہ دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے کہا تھا کہ قیدی "100 فیصد فٹ” ہیں۔ انہوں نے بلڈ پریشر 120/80 بتایا اور کہا کہ آنکھ کی بیماری تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔

حکومت کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نیازی نے علاج فراہم کرنے والے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کے علاج کے معیار کی بھی تعریف کی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بیان دانستہ یا منظم طبی غفلت کے الزامات کی تائید نہیں کرتا۔

پاکستانی حکومت نے اپنے ردعمل میں سپریم کورٹ کے احکامات کا بھی حوالہ دیا ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق عدالت کی ہدایات کے تحت قیدی کا طبی معائنہ کیا گیا اور متعلقہ طبی و انتظامی انتظامات کیے گئے۔

حکومت کے مطابق قیدی کی بہن بھی طبی معائنے کے دوران موجود تھیں۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ صحت کے معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور حکومت نے قیدی کی طبی حالت کو سیاسی تنازع بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھی۔

حکومت نے مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے مزید کارروائی تک قیدی کے خاندان، اس کی سیاسی جماعت اور متعلقہ وکلا کو اس کی صحت یا طبی رپورٹس میڈیا اور عوام کے ساتھ شیئر یا افشا نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

حکومت کے مطابق قیدی کو مناسب طبی علاج حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور اس حق کا احترام کیا جا رہا ہے، تاہم خفیہ طبی معلومات کو سیاسی مہم یا عوامی پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو الگ معاملے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی سزا یافتہ قیدی تک رسائی کو جیل کے اندر سے غیر محدود سیاسی رابطوں یا سیاسی سرگرمیوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری مؤقف کے مطابق ملاقاتوں اور رابطوں کی ضابطہ بندی جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت کی جاتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان ضابطوں کے تحت ملاقاتوں یا رابطوں کو محدود کرنا، لازماً رسائی سے مکمل انکار نہیں ہوتا۔

حکومت نے قیدی کے بیٹوں کے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان نہ آنے سے متعلق دعوے پر بھی وضاحت دی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق دونوں بیٹوں کے پاس بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے جاری کیے گئے NICOPs موجود ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ درست اور فعال NICOP پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے اور دونوں بیٹے اس کے ذریعے پاکستان آ سکتے ہیں۔

تاہم حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان میں داخلے اور جیل میں ملاقات دو الگ معاملات ہیں۔

سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں ملاقاتیں متعلقہ جیل قوانین، عدالتی ہدایات اور سکیورٹی طریقہ کار کے مطابق ہوتی ہیں۔

اپنے تفصیلی ردعمل میں حکومت نے سی این این پر زور دیا ہے کہ آئندہ اس معاملے پر رپورٹنگ کرتے ہوئے سرکاری جیل ریکارڈ، طبی دستاویزات اور متعلقہ عدالتی ہدایات کو بھی شامل کیا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ حراستی اور طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع دعوؤں سے الگ کر کے دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستانی حکومت کے مطابق سزا یافتہ قیدی کو ملاقات، ٹیلی فون رابطے، طبی علاج اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل ہے اور اس کی قید جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی انتظامات کے تحت جاری ہے۔

پاکستان حکومت کا مؤقف ہے کہ سی این این کی رپورٹنگ میں سامنے آنے والے قیدی سے متعلق بعض الزامات سرکاری جیل اور طبی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔

Read Previous

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ، دفاعی پیداوار پر اہم بریفنگ

Leave a Reply