پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 16 مارچ 2026 کو کابل کے "امید بحالی و علاج مرکز” پر پاکستانی فضائی حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ پاکستان نے رپورٹ کو یکطرفہ، نامکمل معلومات پر مبنی اور حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں پاکستان کا مؤقف اور دستیاب شواہد کو نظر انداز کیا گیا
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو کہ مذکورہ کمپاؤنڈ کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ نشانہ بنایا جانے والا کمپاؤنڈ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ایک فوجی نوعیت کا مقام تھا جہاں دہشت گردی سے متعلق انفراسٹرکچر موجود تھا۔ ان کے مطابق کارروائی کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کا ثبوت تھے کہ وہاں گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی افغان طالبان کے الزامات کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے خلاف کی گئیں۔ ان کے مطابق کسی اسپتال، بحالی مرکز یا دیگر شہری تنصیب کو نہ تو نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی جان بوجھ کر ہدف بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی کے فوراً بعد تمام چھ حملوں کی ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی تھی جن سے واضح ہوتا ہے کہ اہداف فوجی نوعیت کے تھے جبکہ ثانوی دھماکوں نے گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق کی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں پاکستان کے سرکاری مؤقف، آئی ایس پی آر کی بریفنگ اور دیگر دستیاب شواہد کو شامل نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خود ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسے پاکستان کی انٹیلی جنس معلومات، نگرانی کے ریکارڈ، ہدف کے انتخاب کے عمل اور آپریشن سے قبل موجود عسکری معلومات تک رسائی حاصل نہیں تھی اس لیے صرف عوامی طور پر دستیاب مواد کی بنیاد پر حتمی قانونی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی بھی فوجی کارروائی کا جائزہ صرف حملے کے بعد کی تصاویر یا بیانات کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے آپریشن سے پہلے دستیاب انٹیلی جنس، ہدف کی عسکری حیثیت اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر، استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور تناسب کے اصول کا جامع جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق جاری رکھے گا اور صرف ان دہشت گرد عناصر اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری یا معاونت میں ملوث ہوں، جبکہ شہری آبادی اور غیر فوجی تنصیبات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
