وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سرحد پار تجارت کو آسان بنانے، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے جس کی صدارت وزیراعظم خود کریں گے۔
مجوزہ بورڈ تجارت کی مکمل سپلائی چین میں بہتری لانے اور سرحد پار تجارت سے متعلق تمام نان ٹیرف امور پر فیصلے کرے گا۔
بورڈ تجارت کے فروغ کے لیے روڈ میپ، ٹریڈ فیسلیٹیشن انڈیکس اور مانیٹرنگ کی حکمتِ عملی مرتب کرے گا، تاکہ تجارتی اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
وزیراعظم نے پاکستان کی بندرگاہوں کی استعدادِ کار بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس مقصد کے لیے مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو بندرگاہوں کی استعداد بڑھانے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ و ہم آہنگی بہتر بنانے، ریگولیٹری فریم ورک پر عمل درآمد اور پری ارائیول کلیئرنس کے نظام کو مؤثر بنانے پر کام کریں گے۔

ورکنگ گروپس بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شمولیت بڑھانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کریں گے۔
وزیراعظم نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں پر مال کی ترسیل، کلیئرنس اور دیگر امور کو آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجلاس کو بتایا گیا کہ جاری اصلاحات کے تحت پورٹ چارجز میں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جہازوں کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت کے استعمال میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے تجارت میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق اصلاحات کو مزید تیز کرنے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ یقینی بنانے پر زور دیا، تاکہ پاکستان میں درآمد و برآمد کا عمل آسان، تیز اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
