Turkiya-Logo-top

ترکیہ کے تعاون سے پاکستان میں موم کی شیٹس تیار کرنے کا پہلا خودکار یونٹ قائم

پاکستان اور ترکیہ کے زرعی تعاون میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد کے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) میں شہد کی مکھیوں کے چھتوں کے لیے موم کی بنیاد والی شیٹس تیار کرنے والے خودکار یونٹ کا افتتاح وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کیا۔ تقریب میں ترکیہ کی تعاون و رابطہ ایجنسی ٹکا کے نائب صدر ڈاکٹر علی ارجان، ٹکا پاکستان کی کنٹری کوآرڈینیٹر صالحہ تونا اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی بھی شریک تھے۔

ترکیہ کی تیار کردہ مشینری سے لیس یہ یونٹ فی گھنٹہ 450 تک موم کی شیٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے استعمال شدہ موم کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا کر معیاری شیٹس تیار کی جا سکیں گی، جس سے شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کو بہتر مواد کی فراہمی اور پیداواری اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے شہد کی مکھیوں کی افزائش کو زرعی پیداوار، فصلوں کی زیرگی اور قومی غذائی تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے پاکستانی شہد کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے معیار، سرٹیفکیشن، جدید پیکجنگ اور مصنوعات کی اضافی قدر پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور زرعی شعبے میں ترکیہ کے تعاون کو سراہا۔

ٹکا کے نائب صدر ڈاکٹر علی ارجان نے پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی افزائش کے شعبے میں 2017 سے جاری تعاون کا ذکر کیا، جس میں تربیت، جدید چھتوں کی فراہمی اور تحقیق سمیت مختلف اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے بھی مقامی سطح پر جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور تحقیق و پیداوار کی صلاحیت بہتر بنانے میں اس منصوبے کی اہمیت اجاگر کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ترکیہ اس سے قبل بھی شہد کی مکھیوں کی افزائش کے شعبے میں تعاون کرتا آیا ہے جس میں جدید چھتوں کی فراہمی، تربیتی پروگراموں اور تحقیق پر کام کیا گیا، جبکہ جون 2026 میں گلگت بلتستان میں 30 خواتین کو شہد کی مکھیوں کی افزائش، شہد کی پراسیسنگ اور بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت بھی دی گئی۔

شہد کی مکھیاں شہد کی پیداوار کے علاوہ فصلوں کی زیرگی اور زرعی نظام کے لیے بھی اہم ہیں۔ نیا خودکار یونٹ معیاری موم کی شیٹس کی مقامی تیاری اور استعمال شدہ موم کے دوبارہ استعمال میں مدد دے سکتا ہے۔ اس منصوبے کے طویل مدتی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جدید ٹیکنالوجی سے شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کو کتنی سہولت ملتی ہے اور پاکستانی شہد کے معیار، پیداوار اور برآمدات میں کس حد تک بہتری آتی ہے۔

Read Previous

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دہشت گردی، منشیات اور منظم جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

Leave a Reply