Turkiya-Logo-top

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔ صدارتی حکم نامے کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزرا، مشیر اور معاونینِ خصوصی فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کرے گی۔

یہ فیصلہ اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ کابینہ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے سمری صدر آصف علی زرداری کو بھجوائی، جنہوں نے اس پر دستخط کر دیے۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے صدارتی حکم نامے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ اس میں گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق صوبے میں آئینی نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہا۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو خیبر پختونخوا کا نیا چیف سیکرٹری تعینات کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے اور صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

مشاورتی کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے ثنا اللہ ایڈووکیٹ کو خیبر پختونخوا کا نیا ایڈووکیٹ جنرل بھی مقرر کیا ہے۔حکم نامے کے مطابق صوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے تحت انجام دیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ بارہ اضلاع کے لیے الگ سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جو براہِ راست وفاقی حکومت کو رپورٹ کرے گا۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس فیصلے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت گزشتہ ایک ماہ سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے ساتھ رابطے میں تھی۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریکِ انصاف کے رہنماؤں سے کئی مرتبہ بات چیت ہوئی، لیکن د-ہشت گردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی رات پونے بارہ بجے تک مذاکرات جاری رہے، تاہم تحریکِ انصاف کی جانب سے کوئی حتمی جواب نہیں ملا۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی ہے۔پارٹی نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت کے فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے صوبائی حکومت اور اسمبلی کو عملاً غیر فعال کر دیا گیا ہے۔

تحریکِ انصاف نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت بعض اہم عہدیداروں کو اغوا کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور حکومت کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اس دوران گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

ادھر اسلام آباد میں بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور احتجاج پر پابندی عائد ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں چھ ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اس فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور جمہوری عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کمیشن نے وفاقی حکومت اور تحریکِ انصاف سے مذاکرات شروع کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

لیکن آئین کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج میں کیا فرق ہے؟

آرٹیکل 232 کے تحت جنگ، بیرونی حملے یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے جس پر صوبائی حکومت قابو نہ پا سکے۔جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت اگر صوبائی حکومت آئین کے مطابق اپنے امور چلانے کے قابل نہ رہے تو صدر اس کے انتظامی اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کے سپرد کر سکتے ہیں۔

اس دوران صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کیے جا سکتے ہیں، تاہم گورنر راج نافذ ہونے سے صوبائی اسمبلی خودبخود تحلیل نہیں ہوتی۔

پاکستان میں اس سے پہلے بھی مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ ہوتا رہا ہے۔خیبر پختونخوا، جسے پہلے صوبہ سرحد کہا جاتا تھا، میں پہلی مرتبہ فروری 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں گورنر راج نافذ ہوا تھا۔

دوسری مرتبہ فروری 1994 میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ تیسری مرتبہ اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا، جو نومبر 2002 تک جاری رہا۔

اسی طرح پنجاب میں فروری 2009 میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جو تقریباً ایک ماہ بعد ختم ہو گیا۔

اب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد اس فیصلے کی پارلیمانی منظوری کا مرحلہ باقی ہے۔آئین کے مطابق اندرونی بدامنی کی بنیاد پر صدر کی جانب سے نافذ کردہ ایمرجنسی کی دس دن کے اندر قومی اسمبلی اور سینیٹ سے الگ الگ منظوری ضروری ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

جبکہ گورنر راج کی منظوری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دو ماہ کے اندر حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اس کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

اس سلسلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 13 اکتوبر کو متوقع ہیں، جہاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

Read Previous

ترکیہ کے تعاون سے پاکستان میں موم کی شیٹس تیار کرنے کا پہلا خودکار یونٹ قائم

Leave a Reply