رپورٹ: شبانہ ایاز، انقرہ
پاکستان سفارتخانہ انقرہ میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ترک رکنِ پارلیمنٹ برہان کایاترک، Ankara Bilim University کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر یاووز دمیر، Geostrategic Foresight Institute کے صدر ڈاکٹر گورائے الپار، سابق سفیر نعمان ہزار، ترک وزارتِ خارجہ کے نمائندگان، تھنک ٹینکس، ماہرینِ تعلیم، میڈیا نمائندگان اور پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی۔

سفیرِ پاکستان کا خطاب
اس موقع پر ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج اور قوم کی جانب سے دکھائی گئی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون، امن اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے آپریشن “بنیان المرصوص” کے ذریعے اپنے دفاع کا حق تحمل اور عزم کے ساتھ استعمال کیا۔



سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کی، جبکہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار رہا۔ انہوں نے حکومتِ ترکیہ، ترک عوام اور ترک میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کشیدگی کے دوران پاکستان کی بھرپور حمایت اور متوازن رپورٹنگ کی۔
ترک رکنِ پارلیمنٹ کا اظہارِ خیال
ترک رکنِ پارلیمنٹ برہان کایا ترک نے پاکستان کے لیے ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط دفاعی صلاحیتیں جارحیت کو روک کر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں، تحمل اور مذاکرات کی پالیسی کو بھی سراہا۔
ماہرین اور سابق سفیر کی گفتگو


جیو اسٹریٹجک فارسائٹ انسٹیٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر گورائے الپار نے جموں و کشمیر سمیت علاقائی تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی جیسے اہم وسائل کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
سابق سفیر نعمان ہزار نے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارتکاری اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاہم ممالک کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔
اختتامی دعا
تقریب کے اختتام پر پاکستان کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
