Turkiya-Logo-top

انقرہ کی جامعہ میں ترک پرچم پر حملے اور بے حرمتی کا واقعہ؛ انتہا پسند حملہ آور گروہ گرفتار، دہشتگرد تنظیم کے حمایتی نکلے

انقرہ: ترکیہ کے دارالحکومت میں واقع مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی (METU) — جسے ترکیہ میں ODTÜ کے نام سے جانا جاتا ہے — میں بدھ 6 مئی 2026 کو ایک انتہائی افسوسناک اور اشتعال انگیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ریاست مخالف عناصر کی جانب سے ترک پرچم پر حملہ اور اس کی بے حرمتی کی گئی۔

واقعے کا پس منظر اور تفصیلات

جامعہ ODTÜ اپنی بلند پایہ تعلیمی ساکھ کے ساتھ ساتھ لیفٹ ونگ (Left-Wing) کی طلباء سیاست کا گڑھ سمجھی جاتی ہے، جہاں اکثر مختلف نظریاتی گروہوں کے درمیان تصادم ہوتا رہتا ہے۔

  • حالیہ واقعہ کیمپس میں منعقدہ ایک مارچ کے دوران اس وقت پیش آیا جب محبِ وطن طلباء کے ایک گروپ نے قومی وقار کے اظہار کے لیے ترک پرچم لہراتے ہوئے مارچ کرنا چاہا۔
  • حملہ اور ہاتھا پائی: وہاں موجود مخالف نظریاتی گروہ (جو کہ دہشتگرد تنظیم کے حمایتی بتائے جاتے ہیں) نے مارچ کو روکنے اور طلباء سے ترک پرچم چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران حملہ آوروں نے پرچم کی زبانی توہین کی اور اسے پھاڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی طلباء زخمی ہو گئے۔
  • محبِ وطن طلباء نے فوری مداخلت کر کے پرچم کی حفاظت کی، جس کے بعد کیمپس سیکیورٹی اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا۔

فوری کارروائی، تحقیقات اور گرفتاریاں

واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے سخت ایکشن لیا:

  • یونیورسٹی انتظامیہ: انتظامیہ نے ملوث افراد کی شناخت اور تادیبی کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم، انتظامیہ پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ کیمپس میں انتہا پسند گروہوں کو روکنے میں سستی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
  • قانونی کارروائی: انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ترک تعزیرات کے آرٹیکل 300 (ترکیہ کے پرچم کی توہین) کے تحت باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس قانون کے تحت پرچم کی توہین پر ایک سے تین سال قید کی سخت سزا مقرر ہے۔
  • گرفتاریاں اور دہشتگردی کے روابط: تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ان حملہ آوروں کے دہشتگرد تنظیموں سے روابط موجود ہیں۔ اسپیشل سیکیورٹی فورسز نے فوری آپریشن کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 6 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
  • ویڈیوز میں حملہ آور گروہ کا مبینہ سربراہ "الہامی کایا” بھی ترک اسپیشل فورسز کی تحویل میں زمین پر ہتھکڑیوں میں جکڑا بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

صدر ایردوان کا ردعمل اور عوامی غیض و غضب

یہ واقعہ عوام اور یونیورسٹی کمیونٹی میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔

  • صدر ایردوان کی مذمت: ترک حکومت اور صدر رجب طیب ایردوان نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ‘ملک کی سالمیت پر حملہ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کسی بھی صورت دہشت گردی یا ملک دشمنی کا اڈہ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
  • عوامی ردعمل: سوشل میڈیا پر #BayrağaUzananEllerKırılsın (پرچم کی طرف بڑھنے والے ہاتھ توڑ دیے جائیں) ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، اور عوام نے مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پرچم کی حرمت اور سماجی اہمیت

مبصرین کے مطابق، ترکیہ میں سرخ ہلالی پرچم صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ یہ لاکھوں شہداء کی قربانیوں اور قومی وقار کی عظیم علامت ہے۔ اسی لیے اس کی توہین پر پورے معاشرے میں شدید طیش پایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ترکیہ کے تعلیمی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں آزادیِ رائے کے ساتھ ساتھ قومی علامات کی حرمت کو ہر صورت کیسے یقینی بنایا جائے۔

Read Previous

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

Read Next

معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کی تقریب

Leave a Reply