پاکستان نے علاقائی تجارت میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تک نیا زمینی تجارتی راستہ فعال کر دیا ہے جس کے بعد افغانستان پر روایتی انحصار میں نمایاں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
سرکاری حکام کے مطابق یہ پیش رفت نیشنل لاجسٹک کارپوریشن اور کسٹمز حکام کے تعاون سے ممکن ہوئی ہے جس کے تحت گبد-رمدان بارڈر کراسنگ کو بین الاقوامی ٹرانزٹ نظام کے لیے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے
سرکاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کو فروغ دینے کیلئے متعدد بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو ٹی آئی آر فریم ورک میں شامل کیا ہے جن میں تافتان، رمدان، اور گبد وغیرہ شامل ہیں یہ روٹ روایتی افغانستان ٹرانزٹ راستوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مختصر اور اقتصادی سمجھا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی علاقائی تجارتی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے
نئے تجارتی راستے کے تحت کراچی سے منجمد گوشت کی پہلی کھیپ ٹرانسپورٹ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کیلئے روانہ کی گئی ہے یہ سامان کراچی سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچایا جائے گا
حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی برآمدات کیلئے ایک متبادل اور نسبتاً مختصر زمینی راہداری فراہم کرتا ہے جو وقت اور لاگت دونوں میں کمی کا باعث بنے گا یہ اقدام پاکستان کی بندرگاہوں کراچی اور گوادر کی اہمیت میں بھی اضافہ کرے گا کیونکہ ان کے ذریعے وسطی ایشیا تک ترسیل کا نیا گیٹ وے کھل گیا ہے
