ozIstanbul

عثمانی دور ، رمضان اور حضور ہمایوں دروس

تحریر و تحقیق :طاہرے گونیش
ترک زبان میں Hümâyun بادشاہ کو کہتے ہیں تو
Huzur-ı Hümâyun Dersleri
سے مراد ‘بادشاہ کے رو برو منعقد ہونے والے دروس یا علمی مجالس و مباحث۔’
رمضان، قدیم زمانے سے مقدس مہینوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ماہ رمضان ہمیشہ مسلمانوں کے لیے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ رحمتوں اور رحمتوں کے مہینے کے نام سے مشہور رمضان المبارک مسلم دنیا کے لیے ’’گیارہ مہینوں کا سلطان‘‘ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ترک معاشرے میں رمضان نام کو بہت مقبولیت حاصل ہے اور ترکی میں کئی بوڑھے اور جوان آپ کو رمضان نام والے ملیں گے۔
اس مہینے میں لوگ غور و فکر کی طرف متوجہ ہوتے، اپنی روح کو نظم و ضبط میں لاتے اور روزے کے ذریعے دنیاوی نعمتوں سے خود کو دور کرتے ہیں ۔
قدیم زمانے میں رمضان المبارک کی تیاریاں تین مہینوں کے آغاز سے شروع ہو جاتی تھیں۔ دوسری طرف رمضان شروع سے آخر تک عبادت، ذکر، ہمدردی،مواخات، محبت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا تھا، خاص طور پر درویش،مشائخ اور زائرین آخری دس دنوں میں قیام گاہوں یا مساجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ افطار اور سحری دوستی، اتحاد، یکجہتی اور اشتراک کی علامت تھی۔
باجماعت نماز تراویح رمضان المبارک کے ناگزیر حصوں میں سے ایک تھی۔ وہیں سماجی و مذہبی دروس بھی عام تھے۔
مذہبی اور سماجی معاملات پر سالانہ مباحثے ایک طویل عرصے تک عثمانی سلطانوں کے دربار میں ہوتے رہے یہ1924 میں خلافت کے خاتمے تلک چلتے رہے۔
1451 اور 1481 کے درمیان فیصلہ کن فتوحات کے ساتھ فاتح سلطان محمد ( دوم) نے اس روایت کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔
اس نے اس طرح کے مباحثوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا اور معاشرے میں مذہبی اور سائنسی سوچ دونوں کی حوصلہ افزائی کو انتہائی اہمیت دی۔
سلطنت عثمانیہ کے 600 سال سے زائد عرصے تک دائم رہنے کی ایک اہم وجہ اسلامی احکامات کو اپنی طرز حکمرانی کا ایک لازمی حصہ بنانا تھی۔
اس لئے سن 1759 تک "حضورِ ہمایوں دروس” نے ایک سرکاری حیثیت اختیار کر لی۔
رمضان کے مہینے میں عثمانی سلطان کی موجودگی میں منعقد ہونے والے، دروس اپنی ہیئت کے لحاظ سے مباحثے کے طرز والے تھے، کیونکہ مسلمان اہل علم مختلف قرآنی آیات کی تشریح کرتے اور طلباء اور سامعین یا دیگر سوالات کرتے ۔یوں یہ دو طرفہ مکالمے و مباحثے کی شکل اختیار کرتے۔
سالانہ حُضور ہمایوں دروس عموماً استنبول کے توپ کاپی محل (Top kapı sarayı) میں منعقد ہوتے تھے جو سلطنت عثمانیہ کی سب سے عظیم الشان جگہ تھی۔
یہ روایت 165 سال تک جاری رہی یہاں تک کہ 1924 میں خلافت کے خاتمے نے اسے قصہ ء پارینہ دیا۔
حساس مذہبی معاملات پر بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی کا خیال اس وقت سے شروع ہوا جب عثمانی سلطنت اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ سلطانوں نے علماء اور مذہبی رہنماؤں کو بلوایا تاکہ سائنسی اور مذہبی ماحول کو آگے بڑھایا جا سکے اور ریاعا اور عثمانی خاندان کو اسلامی اقدار کی اور سائنسی علوم سے روشناس کرایا جا سکے۔
اسی لئے عثمانی سلاطین نے اپنے وقت کے معروف مذہبی شخصیات اور طلباء کو اپنے محل میں بلانے کو اہمیت دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے ان میں سے کچھ کو بطور استاد خاص بھی بھرتی کیا۔
ظہر اور عصر کی نماز کے درمیان پہلے درس میں کم از کم چھ علماء شریک ہوتے۔ان دروس کو "حضورِ ہمایوں دروس” کا نام دیا گیا کیونکہ یہ سلطان کے سامنے منعقد کیے جاتے تھے، جو کہی جانے والی تمام باتوں کو سنتے تھے۔پوری تاریخ اسلام میں بہت کم ایسے مذہبی اور ثقافتی و سماجی دروس ہیں جو باقاعدگی سے، اتنے طویل عرصے تک جاری رہے۔
‘ حضور دروس ‘میں پڑھانے والے علماء کو "مقرر” (Mukarrir) کہا جاتا تھا اور وہ علماء جو سوال اٹھاتے اور دروس کی موضوعات پر بحث کرتے تھے انہیں "مخاطب یا طالپ” (Muhatap,Tâlip) کہا جاتا تھا۔
جو چیز اہم تھی وہ یہ کہ علماء قرآنی آیات کی تشریح احادیث (پیغمبر کے اقوال)، فقہ (فہم) اور تاریخی و جغرافیائی روشنی میں کرتے۔ یہ ایک ایماندارانہ اور فکری طور پر سخت سرگرمی تھی جس نے عثمانی خاندان اور سلطنت میں عقلی اور روحانی سوچ کو فروغ دیا۔
حضور دروس کے علمائے کرام کو سلطان کی طرف سے تحائف سے نوازا جانا عام رواج تھا۔
مجلس میں نشست گاہ کا تعین سلطان نے کیا کرتاتھا۔ مقرّر سلطان کے دائیں طرف بیٹھتا تھا، اور محتسپ ایک نیم دائرے میں مقرّر کے پاس بیٹھتے تھے۔
مردوں کے ساتھ عورتیں بھی سلطان کی موجودگی میں دروس سننے کے لیے آتی تھیں ۔
مہمانوں کے لئے قیام کے ساتھ طعام کا بھی بندوبست ہوتا تھا ۔
خاص کر پیاز والے انڈے اور اوجھڑی کا شوربہ اور پستے کا شربت تو بہت ہی عام و مقبول تھا۔
سلطنت عثمانیہ میں صرف گفتار تک ہی رمضان سے فائدہ نہ اٹھایا جاتا تھا بلکہ عملی کردار کا بھی مظاہرہ ہوتا تھا۔ مثلا ، تاجروں اور دکانداروں کو گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی سے منع کیا جاتا تھا اور عوام کی خوشحالی سب سے بڑا ہدف ہوا کرتا تھا۔
ان دروس سے مجموعی طور معاشرے کی اصلاح مقصود تھی اور علم کی شرح میں اضافہ مطلوب تھا۔ دونوں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر ان مباحث کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔
عبدالحمید ثانی کے دور میں یلدز محل میں رمضان میں ہفتے میں دو دن دروس منعقد ہوتے تھے۔
کچھ نمائندگان اور سیاستدانوں کو بھی مدعو کیا جاتا تھا۔خلیفہ عبدالمجید کے دور میں، دولما باہچہ محل میں اسباق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس سلسلے کا آخری درس مئی 1923 میں منعقد کیا گیا تھا ۔
May be an illustration

پچھلا پڑھیں

ترکی کتابوں کی نشریات میں عالمی سطح پر ٹاپ 10 میں شامل ہوگیا، صدر ایردوان

اگلا پڑھیں

ترکی جلد دہشتگردی سے نجات پانے میں کامیاب ہو جائے گا، صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں