Turkiya-Logo-top

مغلا کا 125 سال پرانا زیئبک ہاؤس، جہاں کریموغلو ایوب کی داستان آج بھی زندہ ہے

ترکیہ کے مغلا شہر کے مین تیشے ضلع کے یرکیسک محلے میں واقع کریموغلو ترکوسو ہاؤس ایک ایسا تاریخی گھر ہے جو 125 سال پرانے ایک افسوس ناک واقعے کی یاد آج بھی تازہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں مغربی اناطولیہ کے مشہور زیئبک کردار کریموغلو ایوب کو 1901 میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ آج یہ گھر اپنی روایتی تعمیر، تاریخی اشیا اور کریموغلو ایوب سے جڑی داستان کے باعث مغلا کے اہم ثقافتی اور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

کریموغلو ایوب کی کہانی سمجھنے کے لیے ہمیں 1901 کے مغلا واپس جانا ہوگا۔ اس وقت موجودہ یشیلیورت کے علاقے کو پِیسی کہا جاتا تھا۔ اسی علاقے میں ایک شادی کی تقریب جاری تھی کہ وہاں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔ یہ معمولی نوعیت کا جھگڑا جلد ہی سنگین صورت اختیار کر گیا اور اس دوران ایک سرکاری جینڈرمی اہلکار مارا گیا۔ ترک روایت میں جینڈرمی دیہی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو کہا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد حکام نے کریموغلو ایوب کو مطلوب قرار دیا اور وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں چلے گئے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

یہاں اہم بات یہ ہے کہ کریموغلو ایوب اور اس ہلاک ہونے والے اہلکار کا تعلق کیا تھا؟ دستیاب تاریخی بیان کے مطابق شادی کی تقریب میں ہونے والے اسی جھگڑے کے دوران ایوب نے جینڈرمی اہلکار کو قتل کیا تھا۔ یہی واقعہ ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ وہ قانون کی گرفت میں آنے کے بجائے پہاڑوں میں روپوش ہوگئے اور کافی عرصے تک حکام سے بچتے رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ علاقے میں ایک ایسے زیئبک کے طور پر مشہور ہوئے جس کی زندگی میں بغاوت، فرار اور المیہ سب ایک ساتھ شامل تھے۔

روپوشی کے دنوں میں بھی ایوب کی زندگی معمول پر نہیں آئی۔ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتے تھے اور اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اسی خواہش نے بالآخر انہیں دوبارہ لوگوں کے درمیان آنے پر مجبور کیا۔ وہ شادی کی نیت سے اس گھر میں موجود تھے، مگر لڑکی کے خاندان نے ان کی موجودگی کی اطلاع حکام کو دے دی۔ اس اطلاع کے بعد 1901 کے موسمِ خزاں میں سرکاری اہلکاروں نے اس گھر پر چھاپہ مارا جہاں ایوب ٹھہرے ہوئے تھے۔

چھاپے کے دوران صرف 19 سالہ کریموغلو ایوب کو گولی مار دی گئی اور وہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ یوں ایک نوجوان کی زندگی، جو ایک شادی کی تقریب میں ہونے والے خونی جھگڑے کے بعد پہاڑوں میں روپوش ہوگئی تھی، بالآخر اسی تلاش اور گرفتاری کی کارروائی پر ختم ہوئی۔ بعد میں مقامی لوگوں نے ان کی موت پر ایک نوحہ نما لوک گیت تخلیق کیا، جو آگے چل کر کریموغلو ترکوسو کے نام سے مشہور ہوا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

وقت کے ساتھ یہی غمگین لوک گیت زیئبک موسیقی کے انداز میں پیش کیا جانے لگا اور پھر کریموغلو زیئبیگی نامی روایتی رقص کی شکل اختیار کر گیا۔ آج یہ رقص مغلا کی نمایاں ثقافتی روایات میں شامل ہے اور خصوصاً شادی بیاہ کی تقریبات میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کریموغلو ایوب کی موت کا واقعہ صرف ایک پرانی داستان بن کر نہیں رہ گیا بلکہ موسیقی، رقص اور مقامی ثقافت کا مستقل حصہ بن گیا۔

کریموغلو ترکوسو ہاؤس کی اہمیت بھی اسی داستان کی وجہ سے ہے۔ یہ کوئی شاہی محل یا بڑی حویلی نہیں بلکہ مغلا کے روایتی دیہی طرزِ تعمیر کا ایک سادہ گھر ہے۔ 2019 میں اس کی بحالی کی گئی، جس کے بعد اسے تاریخی اور ثقافتی مقام کے طور پر محفوظ رکھا گیا۔ گھر میں اس دور سے متعلق روایتی لباس، جوتے، ہتھیار اور دیگر تاریخی و نسلی اشیا رکھی گئی ہیں، جبکہ دروازے پر موجود گولیوں کے نشانات بھی اس واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔

گھر کے اندر موجود اشیا اس دور کی روزمرہ زندگی کی بھی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایک کمرے میں بکری کے بالوں سے بنے قالینوں پر روایتی نشست کا انتظام دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیوار پر اس زمانے سے منسوب ایک پرانی بندوق بھی رکھی گئی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح صرف ایک پرانا مکان نہیں دیکھتے بلکہ اس جگہ کو دیکھتے ہیں جہاں ایک 19 سالہ نوجوان کی زندگی کا آخری باب لکھا گیا اور جہاں سے مغلا کی ایک معروف لوک روایت نے جنم لیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

آج کریموغلو ترکوسو ہاؤس مغلا کی ثقافتی سیاحت کا ایک اہم مقام ہے، کیونکہ یہاں تاریخ، لوک موسیقی اور روایتی رقص ایک ہی داستان میں جڑ جاتے ہیں۔ 125 سال گزرنے کے باوجود کریموغلو ایوب کی کہانی مقامی لوگوں کی یادداشت سے مٹ نہیں سکی۔ جس واقعے نے ایک نوجوان کی جان لی، اسی واقعے نے بعد میں ایک ایسا لوک گیت اور رقص پیدا کیا جو آج بھی مغلا کی شادیوں اور ثقافتی تقریبات میں زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی گھر صرف ماضی کی ایک عمارت نہیں بلکہ ترکیہ کے زیئبک ثقافتی ورثے کی ایک زندہ علامت بن چکا ہے۔

Read Previous

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا: فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر

Read Next

پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ شروع، کرپٹو کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی راہ ہموار

Leave a Reply