Turkiya-Logo-top

ماسکو میں پاکستان کا 80واں یومِ آزادی، تین روزہ تقریبات میں پاک روس دوستی کے رنگ نمایاں

روس کے دارالحکومت ماسکو میں پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر تین روز تک تقریبات جاری رہیں، جن میں سفارت کاری، موسیقی، پاکستانی ثقافت اور پاک روس دوستی کے مختلف رنگ نمایاں رہے۔ تقریبات کا اہتمام ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کیا گیا۔

یومِ آزادی کی تقریبات کا آغاز خصوصی استقبالیہ سے ہوا، جس میں روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزِن نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں روسی حکام، سفارتی برادری، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں، ثقافتی شخصیات اور پاکستانی کمیونٹی سمیت تقریباً اڑھائی سو افراد شریک ہوئے۔

پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ روسی نائب وزیر خارجہ میخائل گالوزِن نے پاکستان کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، علاقائی رابطوں، صنعت، فارماسیوٹیکل اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت اجاگر کی۔

تقریبات کے دوران ماسکو کے قلب میں ایک خصوصی پاکستانی ثقافتی شام بھی منعقد ہوئی۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی ہائپر فوک بینڈ خماریاں (Khumariyaan) نے روس میں پہلی مرتبہ پرفارم کیا۔ پاکستانی دھنوں اور روایتی موسیقی پر روسی حاضرین بھی جھومتے نظر آئے، جس نے تقریب کو پاک روس عوامی و ثقافتی روابط کا منفرد رنگ دیا۔

پاکستان کے پرائیڈ آف پرفارمنس یافتہ معروف وائلن نواز استاد رئیس خان نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اپنی دلنشیں وائلن پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا۔

تین روزہ تقریبات کا اختتام پاکستانی سفارت خانے میں قومی پرچم لہرانے کی تقریب سے ہوا۔ پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے قومی پرچم بلند کیا اور یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا سے ماسکو پہنچنے والے فنکاروں نے پاکستان کا روایتی خٹک رقص پیش کیا، جسے شرکا نے بھرپور سراہا۔

RT International سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے پاکستان کی معاشی، تعلیمی، ٹیکنالوجی اور سماجی شعبوں میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے اعتماد کے باعث بحران کو وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوششوں میں کردار ادا کیا۔

پاکستانی سفیر نے پاک روس تعلقات کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کے تناظر میں روس، ایران اور پاکستان کے درمیان ریل اور سڑک رابطوں کو مضبوط بنانے پر کام جاری ہے، جس میں گلگت، اسلام آباد، کراچی اور گوادر تک رابطوں کے امکانات بھی شامل ہیں۔

ماسکو میں تین روز تک جاری رہنے والی یومِ آزادی کی تقریبات نے پاکستان کی ثقافت اور قومی تشخص کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کو بھی نمایاں کیا۔

Read Previous

ترک ایم پی علی شاہین کا پاکستان کے یومِ آزادی پر خصوصی پیغام. ’دو ملک، ایک قوم، دو دل، ایک جان‘

Read Next

اے کے پارٹی کے 25 سال مکمل، ایردوان کا ترقی، دفاع اور نئے اہداف کے ساتھ سفر جاری رکھنے کا اعلان

Leave a Reply