گیس ذخائر سے مالا مال ایران اور روس میں 40 ارب ڈالر کے معاہدوں پر رضامندی

روسی صدرپیوٹن اور ترکیہ کے صدر ایردوان امن مذاکرات کیلئے کل تہران پہنچے،ایران میں مشرق وسطیٰ بالخصوص شام میں قیام امن کے حوالے سے ساتویں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت سے قبل ترکیہ اور روس کے صدور نے ایرانی ہم منصب سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ایران کے سعد آباد پیلس میں ترک صدر طیب ایردوان کے لیے استقبالیہ تقریب رکھی گئی جس کے بعد دونوں ممالک کے سربراہان نے وفد کے ہمراہ روبرو ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔دوسری جانب روس اور ایران کےدرمیان 40ارب ڈالرکاتوانائی معاہدہ طےپاگیا،سیاسی ماہرین کے مطابق ماسکو،تہران میں فاصلےمزیدکم ہوگئے، پیوٹن مغربی دنیاکودکھاناچاہتےہیں کہ انکےپاس متبادل موجودہیں،ایرانی وزارت تیل نےبتایاکہ ایرانی آئل کمپنی (این آئی او سی) اور روسی گیس پروڈیوسر کمپنی گیس پروم نے تقریباً 40 بلین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے، روسی کمپنی ایران کی نارتھ پارس گیس فیلڈز اور چھ دیگر آئل فیلڈز کی ترقی میں ایرانی نیشنل کمپنی کو مدد فراہم کرے گی۔ یہ روسی کمپنی ایرانی مائع گیس ( ایل این جی) کے دیگر منصوبے مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی پائپ لائنوں کی تعمیر میں بھی مدد فراہم کرے گی، جن کے ذریعے تہران حکومت ملکی گیس برآمد کرنا چاہتی ہے،ادھرتہران میں ترک ہم منصب اردوان سےملاقات کےبعدپیوٹن نےکہاہےکہ یوکرینی اناج کی برآمدات سےمتعلق تمام مسائل حل نہیں ہوئے،پیوٹن نےثالثی کی کوششوں اور غذائی تحفظ کے مسائل پر مذاکرات اور بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے اناج برآمد کرنے کے معاملے پر پیش رفت کیلئے ترک پلیٹ فارم مہیا کرنے پر صدرایردوآن کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کی ثالثی سے ہم کافی پیش رفت کر چکے ہیں۔یہ درست ہے کہ ابھی تک تمام معاملات حل نہیں ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک چل رہی ہے۔

Read Previous

غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے استبول مذاکرات میں روس کا رویہ مثبت رہا، ترک صدر ایردوان

Read Next

ترکیہ، ایران اور روس کی شامی تنازع کے پرامن اور سیاسی حل کی حمایت

Leave a Reply