میلجیم کارویٹ خیبر: ترکیہ پاکستان دوستی کا سنگِ میل

تحریر : حماد یونس

ترکیہ اور پاکستان ایسے دوست ہیں ، جن کا زمینی فاصلہ تو ساڑھے تین ہزار کلومیٹر ہے لیکن دل بہت قریب ہیں۔
ترکیہ کا رقبہ 7 لاکھ 83 ہزار اور 356 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی ہے تقریباً ساڑھے 8 کروڑ ۔
ترکیہ کو 81 انتظامی صوبوں اور 973 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے ۔

پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات آج کی بات نہیں بلکہ ترکیہ ان چند ممالک میں سے ایک تھا جنہوں نے پاکستان کو 1947 میں تسلیم کرنے اور اس نوزائیدہ ریاست کا خیر مقدم کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔
اب تو دونوں ممالک کے درمیان رشتہ 75 برس پر محیط ہے۔ اور دونوں ممالک اس دوستی اور محبت کی پلاٹینم جوبلی منا رہے ہیں ۔
ترکیہ اور پاکستان کے مابین یہ تعلق صرف خیر سگالی کے جذبات پر محیط نہیں بلکہ باہمی تعاون اور محبت پر مشتمل ایک رشتہ ہے ، جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھنے اور ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونے کی ایک پوری تاریخ رکھتا ہے ۔
سب سے اہم شعبہ جس میں ترکیہ اور پاکستان نے دست بستہ آگے بڑھنے کا عزم کر رکھا ہے ، وہ ہے دفاع کا شعبہ

ڈیفینس سیکٹر:
پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعلقات اور معاہدے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ ایک سچے دوست کی حیثیت سے دونوں ممالک ہی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ طاقتور اور ناقابلِ تسخیر دوست اس دوستی کی بقا کا ذریعہ ہیں۔
چنانچہ پاکستان کی ترکیہ کے ساتھ بہت سے دفاعی معاہدے ماضی میں بھی رہے اور حال میں بھی جاری ہیں ۔ جن میں سے ایک ، میلجیم بھی ہے ۔
میلجیم ایک ترک پراجیکٹ ہے، جس کے تحت جنگی بحری جہاز اور کارویٹس ترکیہ کے دفاع کو مضبوط تر بنانے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں ۔ 5 جولائی 2018 کو آئی ایس پی آر پاکستان کے نے اعلان کیا کہ پاکستان کا ترکیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے، جس کے تحت اب ترکیہ پاکستان کے لیے چار کارویٹس یعنی سمندری لڑاکا جہاز تیار کرے گا۔
اس منصوبے کے تحت تیسرے کارویٹ کی لانچنگ تقریب ترکیہ میں جاری ہے ، جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف دونوں شامل ہیں۔
جبکہ طیب اردوان کے مطابق ، اس ضمن میں پاکستانی بھائیوں کے لیے چوتھا کارویٹ فروری 2025 تک تیار ہو جائے گا ۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ترکیہ اس دو طرفہ دوستی میں کئی نئے دروازے وا کرے گا ۔
واضح رہے کہ رجب طیب اردوان نے بھی پاکستان کا بہت بار دورہ کیا ہے۔
چنانچہ طیب اردوان 2002 سے 2014 تک ، بحیثیت وزیر اعظم 7 بار پاکستان تشریف لائے ، جن میں سے 2012 وہ سال تھا جس میں طیب اردووان مئی اور دسمبر میں یعنی دو بار تشریف لائے۔

جبکہ بحیثیت صدر جمہوریہ ترکیہ ، طیب اردوان نے 4 بار پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔

جبکہ دوسری جانب، وزیر اعظم شہباز شریف سے پہلے ان کے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف نے بھی وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے کئی بار ترکیہ کا دورہ کیا ہے ۔ خود شہباز شریف نے بھی ماضی میں ترکیہ کا کئی بار دورہ کیا ، مگر اس وقت ان کی حیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب کی تھی.
طیب اردوان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کی دوستی کو نئے افق پر پہنچانے کے علاوہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ کوئی دشمن یا رکاوٹ بھی ترکیہ کی دفاعی انڈسٹری کو دنیا بھر میں سب سے بہتر ہونے سے نہیں روک سکتی ۔
دوسری طرف صدر ایردوان نے استقلال اسٹریٹ میں ہونے والی دہشتگردی کا تذکرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو پیغام دیا کہ "اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے، ہم انسانیت کے ان دشمنوں سے اپنے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔”
دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ "یہ ترکیہ پاکستان دوستی کا ایک اہم ترین دن ہے ، جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ پی این ایس خیبر کی لانچنگ ایک اہم سنگ میل، بھائی چارے کی علامت اور تاریخ ساز لمحہ ہے۔”

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے صرف میلجیم تک موقوف نہیں بلکہ کئی دیگر جہتوں میں بھی جاری ہیں۔
ترکیہ پاکستان کے نیول اٹیک سب میرینز کو اپگریڈ کر رہا ہے ، جس سے پاکستان کا بحری دفاع بہتر ہو گا ، دوسری طرف ہمارے ٹینکوں کو مزید موثر بنانے کا کام بھی ترکیہ کر رہا ہے۔
پاکستان ترکیہ سے بنیادی جنگی ٹینک (Altay / الطائے) 2016 سے لے رہا ہے یا اس حوالے سے بات چیت 2016 میں شروع ہوئی تھی۔ اسے MBT کہا جاتا ہے، یعنی main battle tank ۔

T129 attack helicopters
یہ بھی پاکستان نے ترکیہ سے لیے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جنگی ڈرونز کے پارٹس کا بھی معاہدہ جاری ہے۔
جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دیگر تجارتی معاہدے بھی کم اہمیت کے حامل نہیں ۔

گزشتہ برس پاکستان کی ترکی کو درآمدات کا حجم 394 ملین ڈالرز تھا، جو پاکستانی روپوں میں 86 ارب روپے بنتے ہیں ۔
بڑی درآمدات میں الیکٹرک جنریٹنگ سیٹ (92 ملین ڈالرز) ،
کپاس (79 ملین ڈالرز) اور سوتی دھاگے (32 ملین ڈالرز) شامل تھے ۔

اسی طرح
ترکی کی پاکستان کو درآمدات کا حجم 630 ملین ڈالرز کا تھا ، جو ایک کھرب اور سینتیس ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں ۔
ترکی سے پاکستان کو کی جانے والی اہم درآمدات میں ہاٹ رولڈ آئرن (53 ملین ڈالرز)، کَمپس یعنی سَمتوں کے تعین کا آلہ (38 ملین ڈالرز) اور سوتی دھاگے (36 ملین ڈالرز) شامل تھے۔
پاکستان اور ترکی کا باہمی مجموعی تجارتی حجم دو کھرب اور تئیس 23 ارب پاکستانی روپوں پر مشتمل تھا۔
اس حوالے سے پاکستان اور ترکیہ کا یہ مشترکہ عزم ہے کہ اس تجارتی حجم کو 5 بلین ڈالرز یعنی تقریباً 11 کھرب روپے سالانہ تک پہنچایا جائے۔ یہ عزم ہنوز ایک خواب ہے مگر اگر یہ شرمندہِ تعبیر ہوا تو دونوں ممالک کی تقدیر حقیقتاً بدل جائے گی ۔

Read Previous

جب ترکیہ کی بات آتی ہے تو مگرمچھ کے آنسو جیسے مذمتی پیغامات کے علاوہ دنیا کی طرف سے اور کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،صدر ایردوان

Read Next

ترک پاک دفاع ناقابل تسخیر بن کر رہے گا: ترک صدر ایردوان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا اعلان

Leave a Reply