fbpx

استنبول۔۔۔۔ بلیوں کا شہر

ترکوں کو  بلیوں سے  خاص محبت ہے یایوں کہیں بلیوں کو ترکوں سے کچھ زیادہ ہی  انس ہے  جس کا ثبوت تر کی کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں بلیوں کی تعداد اور صحت ہے۔

اس حوالے سے ترکی کا سب سے بڑا اور خوبصورت شہر استنبول زیادہ جانا جاتا ہے۔ اس شہر کو بلیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔  یہاں مساجد، گھروں، ساحل کنارے، سرکاری دفاتر، لائبری غرض ہر جگہ بلیاں چہل قدمی کرتی، کھاتی پیتی یاکسی پر سکون مقام پر لمبی تان کر سوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق ترکی میں 1 لاکھ 25 ہزار بلیاں ہیں۔  

اس شہر کے لوگوں کی بھی بلیوں سے محبت کی داستانیں کم نہیں ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر آپ ایک بلی کو نقصان پہنچائیں گے تو اس کے بدلے آپ کو ایک مسجد تعمیر کرنی ہو گی ۔ 

استنبول میں عمارتوں کے باہر ایک برتن میں بلیوں کے لیے کھانا ڈال کر رکھنا ایک روایت ہے اس طرح ہر شہری ان بلیوں کی حفاظت اور نشونما میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

گلی (آیا صوفیہ کی بلی)

ترکی کی سب سے بڑی اور قدیم مسجد آیا صوفیہ کی ایک رہائشی بلی بھی ہے جس کا نام انتظامیہ نے گلی رکھا ہر سال یہاں آنے والے لاکھوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز  گلی کی صدر ایردوان سمیت مختلف عالمی رہنماوں کے ساتھ تصاویر ہیں۔ حال ہی میں بڑھتی عمر اور بیماری کی تاب نا لاتے ہوئے گلی چل بسی جس پر استنبول سمیت دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات آئے۔

ٹوم بلی

استبول کی ایک بلی جسے "ٹوم بلی” کے نام سے جانا جاتا ہے کسی ریسٹورنٹ کے باہر سیٹرھیوں پر نہایت دلکش انداز میں بیٹھا کرتی تھی۔ ہر آنے جانے والے کی توجہ اپنی طرف کھینچ لینی والی ٹوم بلی جب 2016 میں چل بسی تو شہریوں نے اس کی یاد میں اسی سال 4 اکتوبرکو ایک مجسمہ تیار کروایا۔ مجسمے کو بھی ہوبہو ٹوم بلی کے انداز میں بٹھایا گیا ہے۔

2016 میں "کیڈی” (ترک زبان میں بلی کو کیڈی کہا جاتا ہے) نام سے دستاویری فلم  تیار کی گئی جس میں استنبول کی بلیوں کی روز مرہ  زندگی کی عکاسی کی گئی۔ اس فلم نے باکس آفس پر  4 ملین ڈالر سے زیادہ کا بزنس کیا اور  غیر ملکی زبان میں بننے والی اب تک کی بہترین فلم قرار پائی۔

عالمی وبا کی وجہ سے ترکی میں  ہفتے کےآخر میں کرفیونافذ کیا جاتا ہے ان دنوں میں بلیوں اور دیگر آوارہ جانوروں کی خوارک کے لیے خصوصی گروپ تشکیل کیے گئے  جو تمام تر اختیاطی تدابیر کے ساتھ جانوروں کی دیکھ بھال پر مامور ہیں  تاکہ کوئی بھی جانور بھوک کی وجہ سے نا مرے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

فٹ بال کی عالمی تنظیم نے ایک بار پھر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی

اگلا پڑھیں

افریقہ: گھانا میں 80 سے زائد ڈولفنز کی پر اسرار موت

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے