دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین اور فیصلہ کن واقعات میں شمار ہونے والی فتحِ استنبول کی 573ویں سالگرہ آج پورے ترکیہ میں انتہائی جوش و خروش، قومی جذبے اور عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ 29 مئی 1453 کو عثمانی سلطان فاتح سلطان محمد ثانی نے صرف 21 برس کی عمر میں وہ کارنامہ انجام دیا جسے صدیوں بعد بھی انسانی تاریخ کے اہم ترین سنگ میلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فتحِ استنبول کی سالگرہ کے مرکزی پروگرام "فتحِ استنبول سے فتحِ قلوب” سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے ہالیچ کانگریس سینٹر، استنبول میں کہا: "573 برس قبل حاصل کی گئی یہ عظیم فتح آج بھی ترک قوم کے دلوں میں زندہ ہے اور استنبول ہمیشہ سے تہذیب، علم، رواداری اور اسلامی تشخص کا مرکز رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ استنبول کی تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ترک قوم کبھی قبول نہیں کرے گی۔
صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ استنبول صرف ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں کے ملاپ کا مرکز ہے، جہاں مشرق اور مغرب ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

53 روز تک جاری رہنے والے سخت محاصرے کے بعد عثمانی افواج نے قسطنطنیہ کو فتح کر لیا اور یوں ایک ہزار ایک سو سال سے زائد عرصے تک قائم رہنے والی بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ مورخین کے مطابق اس فتح نے نہ صرف ایک سلطنت کا باب بند کیا بلکہ عالمی سیاست، تجارت، تہذیب اور عسکری حکمت عملی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کیا۔
فتحِ استنبول کی سالگرہ کے موقع پر ترکیہ کے مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات، تاریخی نمائشوں، ثقافتی پروگرامز، سیمینارز اور یادگاری اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ استنبول کی تاریخی شاہراہیں، چوک، مساجد اور اہم عمارتیں ترک پرچموں اور خصوصی روشنیوں سے جگمگا اٹھیں جبکہ ہزاروں افراد نے آیا صوفیہ، ایوب سلطان مسجد، فاتح مسجد، توپ قاپی محل اور قدیم فصیلوں کا رخ کر کے فاتح سلطان محمد ثانی اور ان کے جانباز سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق قسطنطنیہ صدیوں تک بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت اور دنیا کے سب سے اہم سیاسی، تجارتی اور مذہبی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع اس شہر پر کنٹرول عالمی تجارت اور طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پانچویں صدی میں تعمیر کی گئی مضبوط تھیوڈوسین فصیلیں کئی صدیوں تک شہر کا دفاع کرتی رہیں، تاہم فاتح سلطان محمد ثانی کی عسکری حکمت عملی، جدید توپ خانے اور غیر معمولی قیادت کے سامنے یہ رکاوٹ بھی ٹوٹ گئی۔

فتح کے بعد استنبول عثمانی سلطنت کا مرکز بن گیا اور شہر میں تعمیر و ترقی کا ایک عظیم الشان دور شروع ہوا۔ فاتح سلطان محمد ثانی نے شہر کو دوبارہ آباد کرنے اور اسے علم، فن اور تہذیب کا مرکز بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے۔ ایوب سلطان کمپلیکس، فاتح مسجد و کمپلیکس، توپ قاپی محل، روم محمد پاشا مسجد، ٹائلڈ پویلین اور متعدد تاریخی عمارتیں اسی دور کی یادگار ہیں۔
اس کے علاوہ ماہرینِ تاریخ کے مطابق فتح کے بعد استنبول میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، کتب خانوں اور سماجی مراکز کا ایک وسیع نظام بھی قائم کیا گیا، جس نے بعد میں استنبول کو اسلامی دنیا کے علمی مراکز میں سے ایک اہم مرکز بنا دیا۔
مورخین کے مطابق فتح کے بعد استنبول میں 167 سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں جنہوں نے شہر کی اسلامی شناخت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ انہی تعمیرات نے استنبول کو اسلامی فنِ تعمیر اور تہذیب کے عظیم مراکز میں شامل کر دیا۔

فتحِ استنبول کے بعد آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کیا گیا جو عثمانی دور کی سب سے نمایاں علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔ تقریباً پانچ صدیوں تک مسجد کے طور پر خدمات انجام دینے والی یہ تاریخی عمارت بعد میں میوزیم بنائی گئی، تاہم 2020 میں اسے دوبارہ مسجد کا درجہ دے کر عبادت کیلئے کھول دیا گیا۔ آج آیا صوفیہ نہ صرف استنبول بلکہ پوری اسلامی دنیا کی اہم ترین تاریخی اور مذہبی علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔
آج ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد آبادی والا استنبول دنیا کے اہم ترین عالمی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کو ملانے والا یہ عظیم شہر ترکیہ کی معیشت، ثقافت، تعلیم، سیاحت اور بین الاقوامی تجارت کا مرکز ہے۔ باسفورس کے دلکش مناظر، تاریخی مساجد، عظیم الشان محلات، عالمی معیار کی جامعات اور جدید انفراسٹرکچر استنبول کو دنیا کے منفرد ترین شہروں میں شامل کرتے ہیں۔
573 برس قبل حاصل ہونے والی فتحِ استنبول آج بھی ترک قوم کیلئے فخر، خود اعتمادی، قومی تشخص اور عظیم تاریخی ورثے کی علامت ہے، جبکہ فاتح سلطان محمد ثانی کا نام تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے عزم، بصیرت اور قیادت سے دنیا کا رخ تبدیل کر دیا۔
