رپورٹ — شبانہ ایاز (انقرہ)
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قانونی و صحافتی تعاون کے فروغ، غزہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور پیشہ ورانہ روابط مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، قانونی اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دینے اور صحافتی تنظیموں سے روابط استوار کرنے کے مقصد سے استنبول بار ایسوسی ایشن نمبر 2 (Istanbul Bar Association No. 2) کے اعلیٰ سطح کے وفد نے اپنے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران کراچی پریس کلب کا دورہ کیا، جہاں ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔
وفد کی قیادت استنبول بار ایسوسی ایشن نمبر 2 کے صدر ایڈووکیٹ یاسین شاملی (Yasin Şamlı) نے کی، جبکہ وفد میں نائب صدر ایڈووکیٹ نیازی پاکسوئے (Niyazi Paksoy)، جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ نورجان یانارداغ (Nurcan Yanardağ)، خزانچی ایڈووکیٹ ایرول کیراچ (Erol Kıraç)، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان ایڈووکیٹ میندریس دمیر (Menderes Demir)، ایڈووکیٹ فاطمہ کوچ (Fatma Koç)، ایڈووکیٹ ملیک اسلام شکر (Melik İslam Şeker) اور بین الاقوامی تعلقات کے ذمہ دار و مترجم مہمت اوزترک (Mehmet Öztürk) شامل تھے۔ وفد کی قیادت کی تصدیق استنبول بار ایسوسی ایشن نمبر 2 کی سرکاری ویب سائٹ سے بھی ہوتی ہے۔

کراچی پریس کلب آمد پر وفد کا استقبال کراچی پریس کلب کے سابق سیکرٹری عامر لطیف، سابق سیکرٹری مقصود یوسفی، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان، کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، شمس کیریو، ارباب خدابخش، اسرار شیخ اور دیگر سینئر صحافیوں و عہدیداروں نے کیا۔
غزہ کے لیے قانونی جدوجہد
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استنبول بار ایسوسی ایشن نمبر 2 کے صدر ایڈووکیٹ یاسین شاملی نے کہا کہ ان کی بار ایسوسی ایشن دنیا بھر کی مختلف بار تنظیموں کے ساتھ مل کر غزہ میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آبادی پر حملوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پامالی کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے وکلاء کی عالمی برادری مشترکہ کوششیں کر رہی ہے، اور یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا احتساب ضروری ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
یاسین شاملی نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے وکلاء، بار ایسوسی ایشنز، جامعات اور صحافتی ادارے مشترکہ تربیتی پروگراموں، تحقیقی منصوبوں اور وفود کے تبادلوں کے ذریعے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
قانونی اور صحافتی تعاون پر تبادلۂ خیال

تقریب کے دوران اظہارِ رائے کی آزادی، عدالتی اصلاحات، قانونی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، میڈیا اور قانون کے باہمی تعلق، صحافیوں کے تحفظ اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان مستقبل کے تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آزاد صحافت اور مضبوط عدالتی نظام جمہوری معاشروں کی بنیاد ہیں، اور پاکستان و ترکیہ اس میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان کے اعلیٰ قانونی اداروں کے دورے
کراچی آنے سے قبل ترک وفد نے اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں پاکستان کے اہم قانونی اداروں کا بھی دورہ کیا، جن میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ آف پاکستان، وفاقی آئینی عدالت، سندھ بار کونسل، پنجاب بار کونسل، لاہور ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس شامل ہیں۔
اس دوران ترک وفد کو پاکستان کے عدالتی نظام، آئینی ڈھانچے، قانونی تعلیم، وکلاء کی تربیت اور بار کونسلز کے انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان آئینی و عدالتی تعاون، قانونی اصلاحات اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط

دورے کا ایک اہم سنگِ میل پاکستان اور ترکیہ کی قانونی برادری کے درمیان یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط تھا، جس کے تحت مشترکہ تربیتی پروگرام، قانونی تحقیق، علمی تبادلے، سیمینارز، کانفرنسوں، نوجوان وکلاء کی استعداد کار میں اضافے اور بین الاقوامی قانونی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اجرک کا تحفہ
تقریب کے اختتام پر کراچی پریس کلب کی جانب سے ترک وفد کو سندھ کی ثقافت کی نمائندہ سوغات اجرک پیش کی گئی۔ ترک مہمانوں نے پاکستانی عوام، وکلاء اور صحافی برادری کی گرمجوش مہمان نوازی پر دلی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے عوامی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تجزیہ
ماہرین کے مطابق اس دورے کی اہمیت صرف رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قانونی سفارت کاری (Legal Diplomacy)، بار ٹو بار تعاون، صحافتی روابط اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے میدان میں مشترکہ مؤقف کو مزید تقویت دیتا ہے۔
دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ مشترکہ کانفرنسوں، سیمینارز، تربیتی ورکشاپس، تحقیقی منصوبوں اور وفود کے تبادلوں کے ذریعے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قانونی، عدالتی، صحافتی اور پیشہ ورانہ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
