اسرائیلی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر آئزک ہرزوگ ترکی کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد برف پگھلنے کی تازہ ترین علامت کے طور پر نایاب دورہ ہوگا۔
ترکی کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کا رواں ہفتے اسرائیل کا دورہ متوقع ہے، جس میں صدر رجب طیب ایردوان کے معاون اعلیٰ ابراہیم قالن اور نائب وزیر خارجہ سعادت اونال شامل ہیں۔
اسرائیلی ایوان صدر نے کہا کہ ترک وفد کا دورہ صدر آئزک ہرزوگ کے ترکی کے متوقع دورے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
گزشتہ ماہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ترک صدر نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی ہم منصب کے دورے کی امید رکھتے ہیں، انہوں نے اس دورے کو ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب کھلنے کے موقع کے طور پر سراہا تھا۔
اسرائیلی صدر کے دفتر نے منگل کو جاری ہونے والے اس بیان سے قبل متوقع دورے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مذکورہ بیان میں بھی متوقع دورے کی ممکنہ تاریخ کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا، تاہم ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ‘ٹی آر ٹی’ نے بتایا کہ یہ دورہ 9 اور 10 مارچ کو ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات 2010 میں غزہ کی پٹی کے لیے امداد لے جانے والے ترک بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے میں 10 شہریوں کی ہلاکت کے بعد سے کشیدہ ہوگئے تھے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کے لیے سرگرم نظر آرہے ہیں۔
