واشنگٹن / بیروت: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد، اسرائیل اور لبنان نے اپنی نازک اور عارضی جنگ بندی میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور جنگ بندی کے باوجود سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس مذاکرات اور امریکی صدر کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے سفیر ‘یخئیل لائٹر’ اور لبنان کی سفیر ‘ندا معوض’ سے ایک اہم ملاقات کی، جس کے بعد اس توسیع کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
- ٹرمپ کا بیان: صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں مذاکرات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ امریکا لبنان کے ساتھ مل کر اس کی سلامتی کے لیے کام کرے گا۔
- مستقبل کی دعوت: امریکی صدر نے مستقبل قریب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو بھی وائٹ ہاؤس میں براہِ راست ملاقات کے لیے مدعو کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
مذاکرات کی میز پر فریقین کی متضاد شرائط
اگرچہ گزشتہ ہفتے طے پانے والی جنگ بندی (جو اتوار کو ختم ہو رہی تھی) کو بڑھا دیا گیا ہے، لیکن فریقین کے مطالبات اور ترجیحات میں اب بھی واضح تضاد موجود ہے:
- لبنان کے مطالبات: لبنانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، زیرِ حراست لبنانی شہریوں کی بحفاظت واپسی اور سرحدی حد بندی کا تعین ہوگا۔
- اسرائیل کا مؤقف: دوسری جانب اسرائیل اس بات پر بضد ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کا مرکزی نکتہ لبنان میں حزب اللہ کے اثر و رسوخ اور عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہونا چاہیے۔
زمینی حقائق: جنگ بندی کے باوجود ہلاکتیں اور جھڑپیں
سفارتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان کے محاذ پر صورتحال انتہائی نازک اور کشیدہ ہے:
- حالیہ ہلاکتیں: مذاکرات سے محض ایک روز قبل ہی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک ہوئے، جن میں معروف لبنانی صحافی ‘امل خلیل’ بھی شامل تھیں۔
- حزب اللہ کے حملے: اسرائیلی فوج کے مطابق، جمعرات کو حزب اللہ نے ایک اسرائیلی فوجی طیارے اور زمینی دستوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
- اسرائیلی جوابی کارروائی: اس کوشش کے جواب میں اسرائیل نے بمباری کی جس میں 3 حزب اللہ جنگجو مارے گئے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں ایک بچے سمیت مزید عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پسِ منظر اور مستقبل کا منظرنامہ
لبنان اور اسرائیل کے درمیان اس حالیہ اور شدید کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو اس وقت دوبارہ ہوا تھا، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں کارروائیاں شروع کیں۔
لبنانی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، اس تنازعے میں اب تک تقریباً 2,500 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی افواج تاحال جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مبصرین کی رائے: بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ بندی میں یہ تین ہفتے کی توسیع خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے اور وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، جنگ کے بادلوں کو مستقل طور پر ٹالنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے فریقین کے درمیان مزید سنجیدہ، طویل اور بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔
