یریوان: آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان (Nikol Pashinyan) نے دارالحکومت یریوان میں ایک حالیہ سیاسی جلوس کے دوران ترکیہ کا پرچم جلائے جانے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک کھلی ‘اشتعال انگیز کارروائی’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات خطے کی نازک صورتحال اور کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا اور حکومتی ردعمل کیا تھا؟
آرمینیائی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، یہ ناخوشگوار واقعہ ایک مشعل بردار مارچ کے دوران پیش آیا، جس کا باقاعدہ انعقاد ‘آرمینیائی ریولوشنری فیڈریشن’ (داشناکٹسوتیون) کی جانب سے کیا گیا تھا۔
واقعے کے فوراً بعد آرمینیائی حکومت نے اپنا سخت مؤقف واضح کیا:
- وزیر اعظم کا مؤقف: وزیر اعظم کے ترجمان نازیلی باغداساریان نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ نکول پاشینیان اس واقعے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مکمل طور پر ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں۔
- ہمسایہ ممالک کا احترام: ترجمان کے مطابق، کسی بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاست، بالخصوص ایک ہمسایہ ملک کے پرچم کی اس طرح بے حرمتی کرنا کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نازک سفارتی وقت اور تعلقات کی بحالی کی کوششیں
یہ اشتعال انگیز واقعہ ایک ایسے انتہائی حساس وقت میں پیش آیا ہے جب آرمینیا اور ترکیہ کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پسِ پردہ اور کھلی کوششیں جاری ہیں۔
تاریخی تنازعات اور پسِ منظر
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی تنازعات کی وجہ سے طویل عرصے سے پیچیدہ رہے ہیں:
- آرمینیا کا الزام: آرمینیا پہلی جنگِ عظیم کے دوران سلطنتِ عثمانیہ پر آرمینی باشندوں کے خلاف مبینہ نسل کشی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔
- ترکیہ کا مؤقف: دوسری جانب ترکیہ ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس معاملے کو سیاست کی بجائے غیر جانبدار ‘تاریخی تحقیق’ تک محدود رکھا جائے۔
قرہ باغ جنگ کے بعد کی پیش رفت اور موجودہ صورتحال
ماہرین کے مطابق، 2020 کی قرہ باغ جنگ کے بعد خطے کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ آرمینیا، آذربائیجان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے کوششوں میں تیزی دیکھی گئی ہے:
- خصوصی نمائندے: ترکیہ اور آرمینیا کی جانب سے تعلقات کی بحالی کے لیے خصوصی نمائندے مقرر کیے جا چکے ہیں۔
- سرحدی نرمی: تاحال دونوں ممالک کے درمیان محدود نوعیت کے معاہدے طے پائے ہیں، جن کے تحت تیسرے ممالک کے شہریوں اور سفارت کاروں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
