ترکیہ کے ساحلی شہر مرماریس سے غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے روانہ ہونے والے عالمی امدادی بحری قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی بحریہ کے حملے کے بعد پاکستان سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امدادی قافلے میں 54 کشتیاں شامل تھیں جن پر دنیا کے 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زائد امدادی کارکن، ڈاکٹرز اور صحافی سوار تھے۔ یہ قافلہ غزہ کے متاثرہ شہریوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان لے کر روانہ ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی گن بوٹس نے غزہ کے ساحل سے تقریباً 40 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی سمندری حدود میں سویلین امدادی بیڑے کو روک لیا اور کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد امدادی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار افراد کو بعد ازاں اشدود بندرگاہ منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں معروف پاکستانی سماجی شخصیت مرحوم عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی بھی شامل ہیں، جن کی گرفتاری پر پاکستان میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد پاکستان، ترکیے، بنگلادیش، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، مالدیپ اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام گرفتار امدادی کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے جبکہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنایا جائے۔
