شنگھائی: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والی 2026 ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس (WAIC) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ اور عالمی رہنماؤں سے ملاقات بھی کی، جبکہ افتتاحی تقریب سے صدر شی جن پنگ نے مہمان رہنماؤں، وزراء، ٹیکنالوجی ماہرین، صنعت کاروں اور مختلف ممالک کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون، اختراع اور مشترکہ ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔
کانفرنس کے آغاز سے ایک روز قبل بانی رکن ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ پاکستان بھی اس نئے عالمی ادارے کے بانی اراکین میں شامل ہے، جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، تحقیق، اختراع اور مشترکہ پالیسی سازی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب کے دوران مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور انسان دوست استعمال، عالمی معیشت میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار، ڈیجیٹل تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اور مستقبل میں عالمی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اے آئی مستقبل کی معیشت، صنعت، تعلیم، صحت، تجارت اور گورننس کا بنیادی ستون بننے جا رہی ہے، جس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔
پاکستان نے کانفرنس میں اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جامع، منصفانہ، شفاف اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے عالمی نظامِ حکمرانی کا حامی ہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی صرف چند ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی مساوی مواقع، وسائل اور تکنیکی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کی استعدادِ کار بڑھانے، تحقیق اور جدت کی حوصلہ افزائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا تاکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل خلیج (Digital Divide) کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اگر جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی یقینی نہ بنائی گئی تو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کے ذریعے ایسے نظام کی تشکیل کرنی چاہیے جس میں مصنوعی ذہانت کے فوائد ہر ملک، ہر معاشرے اور ہر فرد تک یکساں طور پر پہنچ سکیں۔
ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس دنیا کے اہم ترین ٹیکنالوجی فورمز میں شمار ہوتی ہے، جہاں حکومتیں، بین الاقوامی ادارے، جامعات، تحقیقی مراکز اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں مستقبل کی مصنوعی ذہانت، اس کے ضابطہ کار، اختراعات اور عالمی تعاون سے متعلق اپنی تجاویز اور تجربات کا تبادلہ کرتی ہیں۔ اس سال کانفرنس میں پاکستان کی فعال شرکت اور WAICO کے بانی رکن کی حیثیت سے شمولیت کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
