ترکی کے ضلعہ بیئن میں ایک اور سیاحتی مقام متعارف

جنوب مغربی ترکی کے میلاس ضلع میلس میں واقع ، بیئین کے قدیم شہر میں موجود تاریخی بے باتھ کو  سیاحوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔

اس شہر میں اب تک موجود چند قدیم ڈھانچوں میں سے ایک بے باتھ کا تخمینہ 700 سال قدیم ہے۔

 اس وقت یہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

ایک بار جب کھدائی اور بحالی کا کام مکمل ہوجائے گا تو اس سے ملک کی سیاحت کی صنعت میں قابل قدر اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

کھدائی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ، پروفیسر قادر پیکٹاس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس سال بے باتھ کا ایک اہم اور جامع مطالعہ شروع کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم یہاں کچھ حفاظتی کام کر رہے ہیں۔ اس کام کا مقصد بے باتھ کے گرم ترین کمرے میں  چھپی ہوئی زیورات کی تصاویر کا تحفظ کرنا ہے ۔

پروفیسر قادر نے مزید کہا کہ حفاظتی اقدامات کے بعد بحالی کا منصوبہ بورڈ کے منظور ہونے کے بعد شروع ہوجائے گا۔

اندرونی حصے پر پلاسٹر سے چھپے ہوئے زیورات خاص طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ڈھانچہ دیگر ڈھانچے کی نسبت زیادہ نگہداشت کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ پرانے دور کی نادر سجاوٹی ڈھانچے کی ایک مثال ہے۔

پروفیسر نے کہا کہ جبریسرچ مکمل ہوجائے گی تو بے باتھ کو سیاحتی مقام میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ قدیم شہر بیئن کے ایک انتہائی خوبصورت علاقے  میں واقع ہے۔ اس میں میلاس سادہ اور بیئن کیسل کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔اسکے کھلنے کے بعد سیاح اس مقام کو اونچی جگہ سے دیکھ سکیں گے۔

 اگرچہ بیئن کے قدیم شہر کی تاریخ 2000 بی سی کی ہے ، لیکن اس کو مینٹیسی اصول پرستی کے تحت اہمیت حاصل ہے  جس نے اس شہر اور محل کو اپنا دارالحکومت منتخب کیا تھا۔

بیئن کو اب ترکی-اسلامی دور کی بستیوں میں سے ایک سب سے اہم مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

پروفیسر قادر  کی نگرانی میں ، آثار قدیمہ کے ماہرین کی ایک ٹیم قدیم شہر میں کھدائی اور بحالی کا کام کر رہی  ہے۔

پروفیسر قادر کا کہنا تھا کہ اس بحالی سے بیئن کی سماجی زندگی اور فن تعمیر پر روشنی آئے گی۔

Read Previous

آرمینیا کے گروپ کا ترک ریسٹورنٹ پر حملہ

Read Next

ترک غوطہ خور ساہیکا کی پوری دنیا میں صاف پانی مہم جاری

Leave a Reply