امریکی شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ترک حاقان فیدان نے کہا کہ یہ جنگیں اب مزید جاری رکھنا ممکن نہیں۔ روس اور یوکرین کو جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے صرف ماسکو اور کیف کے درمیان معاہدہ کافی نہیں ہوگا بلکہ جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ اور روس کے تعلقات کی بھی ازسرِنو تشکیل ضروری ہے۔ ان کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان کسی بھی معاہدے کے اثرات دونوں ممالک سے آگے تک جائیں گے۔
حاقان فیدان نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے یوکرین جنگ کے معاشی اثرات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ معیشتوں کے باہمی انحصار کے باعث اس بحران کے مکمل مالی نقصانات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ کے مطابق یورپی صنعتیں طویل عرصے تک نسبتاً سستی روسی توانائی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں، جس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا ملا۔ تاہم روس اور یورپ کے درمیان اقتصادی روابط منقطع ہونے سے وسیع تر معاشی اثرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اس بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
حاقان فیدان نے بحیرہ اسود میں تجارتی جہاز رانی کی متاثرہ صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین سے اناج اور توانائی کی عالمی منڈیوں تک ترسیل میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، جس سے غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ کا مسئلہ انتہائی تشویش ناک ہے اور اسے جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ترکیہ بحیرہ اسود سے عالمی منڈیوں تک اناج کی ترسیل بحال رکھنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے اور کوششیں کر رہا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان اس تنازعے کو بھی جلد حل کرنے پر زور دیا جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہوئی۔ انہوں نے عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کی بحالی کو ناگزیر قرار دیا۔
