Turkiya-Logo-top

حفیظ طاہر نے ’عینک والا جن‘ کے اے آئی ریمیک کو اصل تخلیق کی توہین قرار دے دیا

پاکستان ٹیلی وژن کے مقبول اور یادگار بچوں کے ڈرامے ’عینک والا جن‘ کے خالق، ہدایت کار اور پروڈیوسر حفیظ طاہر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیے گئے اس ڈرامے کے نئے ورژن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی تخلیقی کاوش اور پاکستان کے کلاسیکی ٹی وی ورثے کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔

حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ ’عینک والا جن‘ صرف ایک ڈراما نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے بچپن کی یادوں، ثقافتی شناخت اور برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی کلاسیکی تخلیق کو جدید انداز میں پیش کرنے سے قبل اصل تخلیق کاروں سے مشاورت اور باقاعدہ اجازت لینا ناگزیر ہے، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

انہوں نے واضح کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیت، فنکارانہ وژن اور برسوں کے تجربے کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ان کے بقول اگر ماضی کی مقبول تخلیقات کو محض اے آئی کے ذریعے دوبارہ پیش کیا جائے تو اس سے اصل فنکاروں اور تخلیق کاروں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں اور فن کی روح بھی مجروح ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 1993 میں نشر ہونے والا ’عینک والا جن‘ پاکستان کے مقبول ترین بچوں کے ڈراموں میں شمار ہوتا ہے، جس نے کئی برس تک ناظرین کو مسحور کیے رکھا۔ اس کے کردار، مکالمے اور منفرد کہانی آج بھی عوام کی یادداشت کا حصہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے اے آئی ورژن کے ٹریلر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ملے جلے ردِعمل دیکھنے میں آئے، جہاں متعدد صارفین نے اس کے بصری معیار اور مصنوعی انداز پر تنقید کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

حفیظ طاہر نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کے لیے معیاری تفریح تخلیق کرنا ضروری ہے، تاہم اس عمل میں اصل تخلیق کاروں کے حقوق، فنی اقدار اور کلاسیکی ورثے کا احترام ہر صورت مقدم رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کو تخلیقی عمل میں معاون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے انسانی فن اور تخلیقی صلاحیت کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔

Read Previous

کام کے دوران صرف پانچ منٹ کا ڈانس تخلیقی صلاحیت، توجہ اور ذہنی صحت بہتر بنانے میں مددگار قرار

Read Next

نکولس کیج کی غیر ریلیز فلم گم ہونے پر پروڈیوسر کا نیٹ فلکس کے خلاف 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

Leave a Reply