fbpx
ozIstanbul

جنیوا کانفرنس: افغانستان کیلیے 1ارب ڈالر سے زائد امداد دینے کا عزم

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کے لیے مالی امداد اکٹھا کرنے کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کتنے ممالک اس اپیل کے ردعمل میں عزم کا اظہار کریں گے۔

اقوام متحدہ نے افغانستان کی اہم ضروریات پوری کرنے کے لیے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شہری ایک ساتھ پورے ملک میں تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ کھانا اس مہینے کے اختتام تک ختم ہوسکتا ہے اور عالمی غذائی پروگرام کا کہنا ہے کہ وہاں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد بھوک کے دہانے پر ہیں۔

طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان میں سخت اسلامی قوانین کے ساتھ حکومت کی لیکن امریکا کی قیادت میں ان کا تختہ الٹ دیا گیا، امریکا نے ان پر 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ ماہ امریکا کی زیر قیادت نیٹو افواج کے انخلا اور مغربی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے بکھرنے کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرلیا تھا۔

مغرب کی دشمنی اور طالبان پر عدم اعتماد کے باعث اربوں ڈالرز کی امداد اچانک بند کردی گئی تھی، تاہم جنیوا میں عطیہ دہندگان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 20 سال گزارنے کے بعد وہاں کے عوام کی مدد جاری رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

پڑوسی ممالک چین اور پاکستان پہلے ہی مدد کی پیش کش کر چکے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی چیف مشل بیچلیٹ نے، جو جینیوا میں موجود تھیں، مغرب کے خدشات کی نشاندہی کی۔

انہوں نے طالبان پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر خواتین کو ملازمت پر جانے کی اجازت دینے کے بجائے انہیں گھروں میں رہنے کا حکم، کم عمر لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا ہے اور وہ سابق مخالفین کو ستا رہے ہیں۔

بیجنگ کی جانب سے گزشتہ ماہ 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کا اجناس اور صحت کی سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا اور جمعہ کو کہا تھا کہ وہ 30 لاکھ کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ بھیجے گا۔

پاکستان نے ادویات اور اشیائے خورونوش بھجوائی تھیں اور بیرون ملک منجمد افغان اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کا کہنا تھا کہ اس نے امدادی سامان سے بھرا ایئر کارگو بھیجا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ماضی کی غلطیوں کو دوہراتے ہوئے افغان شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

چین اور روس دونوں کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بحران سے نکالنے کا کلیدی بوجھ مغربی ممالک پر ڈالنا چاہیے۔

پچھلا پڑھیں

ترکی میں ٹیکنالوجی کا میلہ اگلے ہفتے شروع ہو جائے گا

اگلا پڑھیں

جاپان میں پہلی بار 100 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد 86,510 ہو گئی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے