fbpx

دہشت گرد تنظیم فتح اللہ ایلومینائی سے زیادہ خطرناک ہو گئی، جرمن میڈیا

جرمنی میں فتح اللہ ٹیررسٹ آرگنائزیشن (فیٹو) ایلومینائی تنظیم سے بڑی اور خطرناک تنظیم بن چکی ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق ملک کے جنوب مشرقی علاقے سوابیا میں فیٹو کے سرگرم اور خطرناک کارکنوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جو کسی بھی وقت خطرہ بن سکتے ہیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق فیٹو سے تعلق رکھنے والا یہ خطرناک گروہ اپنے آپ کو ترکی کی حزب اختلاف اور ڈیموکریٹس ظاہر کرتے ہیں لیکن اصل میں یہ ایک خطرناک گروپ کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

حالیہ کچھ دن پہلے سوابیا میں رہنے والے فیٹو کے 400 سرگرم کارکنوں نے دارالحکومت میونخ کے ایک اسکوائر پر بڑا احتجاجی جلوس نکالا تھا جس سے پتہ چلا کہ یہ گروپ کئی دہائیوں سے اپنے آپ کو جرمنی میں منظم کر رہا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق یہ گروپ جرمنی کے جنوبی حصے میں اپنا مرکز بنا رہا ہے اور مختلف طریقوں سے ترک اداروں میں اپنے کارکنوں کو داخل کر رہا ہے۔

فیٹو جو اپنے آپ کو ایک خیراتی اور امدادی ادارے کے طور پر ظاہر کرتی ہے اور مذہبی زبان میں بات کرتی ہے اس نے کئی دہائیوں سے ترکی کے عسکری، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سمیت اعلیٰ فوجی افسروں میں اپنے کارکنوں کو داخل کر دیا ہے۔ یہ لوگ ترکی کے سرکاری شعبے میں مختلف عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ فیٹو اپنے لوگوں کے ذریعے سرکاری نوکری کے تحریری ٹیسٹ کے سوالات بھی اپنے لوگوں کو پہلے سے بتا دیتے ہیں جس سے یہ لوگ بآسانی سرکاری نوکریاں حاصل کر رہے ہیں۔

ترکی بارہا یورپی ممالک کو اس گروپ سے متعلق آگاہ کرتا رہا ہے لیکن یورپ نے ان باتوں پر دھیان نہیں دیا۔ جرمنی کے سیکیورٹی ادارے اب اس گروپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھ رہا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق ایک مخصوص علاقے کو اپنا مرکز بنانے میں کامیاب ہونے والے اس گروپ نے حکومت کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیدیا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق یہ گروپ جرمنی میں ایلومینائی تنظیم سے زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو معاشرے کے مختلف طبقات میں شامل کر لیا ہے اور آہستہ آہستہ پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی ہے۔

جرمنی کے فیڈرل آفس فار مائیگریشن اینڈ ریفیوجیز کے مطابق 2016 سے 2020 تک 32 ہزار ترک شہریوں نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں تھیں جبکہ جرمن علاقے بویریا میں فیٹو کے 3500 کارکن پہلے سے موجود ہیں۔

جرمن میڈیا نے کہا ہے کہ سوابیا کے علاقے اگسبرگ میں فیٹو کے سیکڑوں کارکن پچھلے 30 سال سے سرگرم ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو اس سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 23 افراد جاں بحق

اگلا پڑھیں

ترکی کی ڈنمارک میں مسجد پر حملے کی مذمت

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے