انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس دفاعی حکمت عملی، اتحاد کے مستقبل اور بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی ماحول کے حوالے سے اہم مذاکرات اور فیصلوں کے بعد اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس میں رکن ممالک نے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، اتحاد کے اندر یکجہتی، علاقائی بحرانوں اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، توانائی کی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات نے نیٹو کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
ترکیہ نے پہلی مرتبہ اپنے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جسے صدر رجب طیب ایردوان نے ملک کے لیے اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر صدر ایردوان نے کہا، "یہ تاریخی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب یورو اٹلانٹک خطے کی سلامتی کو آزمایا جا رہا ہے، یہ ہماری مشترکہ مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا”

نیٹو اجلاس میں دفاعی تعاون اور ترکیہ و امریکہ کے تعلقات خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جہاں ایف 35 جنگی طیاروں کے پروگرام پر بھی اہم گفتگو ہوئی۔ صدر ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا ایف 35 معاملے پر رویہ مثبت ہے اور امید ہے کہ ترکیہ دوبارہ اس پروگرام کا حصہ بن سکے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کے اشارے دیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایف 35 طیاروں، دفاعی پابندیوں کے خاتمے اور ترکیہ کے مقامی جنگی طیارے "کان” کے لیے ایف 110 انجنوں کی فراہمی جیسے معاملات زیر بحث رہے۔
ترکیہ کو ماضی میں روسی ساختہ دفاعی نظام کی خریداری کے بعد ایف 35 پروگرام سے نکال دیا گیا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں امریکہ اور انقرہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
صدر ایردوان نے کہا، "مسٹر ٹرمپ کا ایف 35 معاملے پر ترکیہ کے لیے مثبت رویہ ہے، امید ہے کہ جب ایف 35 طیارے ترکیہ کو فراہم کیے جائیں گے تو دنیا کہے گی کہ امریکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔”
ترک صدر کے مطابق امریکی صدر نے ترکیہ کے مقامی جنگی طیارے "کان” کے لیے ایف 110 انجنوں کی فراہمی کے معاملے پر بھی مثبت ردعمل دیا ہے، جس سے ترکیہ کی دفاعی صنعت کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ ترکیہ کو درجنوں جنگی طیاروں کے انجن فراہم کرنے کے ممکنہ معاہدے پر پیش رفت کر رہا ہے، جس کی مالیت 70 کروڑ ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
اجلاس میں نیٹو ممالک نے دفاعی اخراجات بڑھانے، اتحاد کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق نئی حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی گفتگو کی۔ رکن ممالک کا مؤقف تھا کہ موجودہ دور میں مشترکہ دفاعی تیاری پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔
عالمی امن کے معاملات بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ صدر ایردوان نے یوکرین جنگ کے حوالے سے کہا، "منصفانہ امن میں کوئی ہارنے والا نہیں ہوتا، ترکیہ ایک بار پھر فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیار ہے۔”
انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور اب اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ طویل تنازعات عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر غزہ بحران اور علاقائی کشیدگی بھی اجلاس میں زیر بحث رہی۔ ترکیہ نے جنگ کے خاتمے، انسانی بحران کے حل اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
صدر ایردوان نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، "قبضے اور ظلم کا سلسلہ بدستور جاری ہے، عالمی برادری کو امن کے قیام اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔”
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اجلاس کے اہم معاملات میں شامل رہی، کیونکہ یہ عالمی توانائی اور تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ ترکیہ نے واضح کیا کہ وہ خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
صدر ایردوان نے کہا، "ہم آبنائے ہرمز میں استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، اسے جنگ کا میدان بننے سے روکنا ضروری ہے۔”
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انقرہ نیٹو سربراہی اجلاس ترکیہ کے لیے سفارتی اعتبار سے اہم موقع ثابت ہوا، جہاں ایک جانب انقرہ نے نیٹو اتحاد میں اپنا کردار اجاگر کیا جبکہ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات میں بہتری کے امکانات بھی نمایاں ہوئےجس بنا پر نیٹو مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی تعاون، سفارت کاری اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔
