تحریر راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے بارے میں مسلسل غلط معلومات (Disinformation) پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کشمیری مہاجرین کو سیاسی نمائندگی صرف آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے بعد دی گئی، جبکہ اس سے قبل آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی نظام میں ان کا کوئی کردار یا نمائندگی موجود نہیں تھی۔
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے منافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیری مہاجرین 1947 سے ہی آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کا لازمی اور بنیادی حصہ رہے ہیں۔ ان کی سیاسی نمائندگی نہ تو 1974 کے بعد دی جانے والی کوئی نئی رعایت تھی اور نہ ہی یہ کوئی مصنوعی سیاسی انتظام تھا، بلکہ یہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کے قیام، اس کے آئینی ارتقاء اور ریاستی ڈھانچے کی بنیاد سے وابستہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔
1974 کے عبوری آئین سے قبل نمائندگی
آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 سے قبل تین اہم انتخابات منعقد ہوئے:
- 1961 — بیسک ڈیموکریسیز کے انتخابات
- 1964 — بیسک ڈیموکریسیز کے انتخابات
- 1970 — آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے براہِ راست عام انتخابات
بیسک ڈیموکریسیز (1961 اور 1964)
بیسک ڈیموکریسیز نظام کے تحت 2,400 بیسک ڈیموکریٹس منتخب کیے گئے، جن میں:
- 1,200 نمائندے آزاد جموں و کشمیر سے
- 1,200 نمائندے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین سے
اس طرح کشمیری مہاجرین کو 50 فیصد نمائندگی حاصل تھی۔ یہی انتخابی ادارہ صدرِ آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب اور ریاست کے آئینی و سیاسی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔
1970 کے عام انتخابات
1970 میں آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے براہِ راست انتخابات منعقد ہوئے۔
اس اسمبلی کی 24 نشستیں تھیں، جن میں:
- 16 نشستیں آزاد جموں و کشمیر سے
- 8 نشستیں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص تھیں
اس طرح کشمیری مہاجرین کی نمائندگی تقریباً 33 فیصد رہ گئی۔
1974 کا آئینی ڈھانچہ
آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین ایکٹ 1974 کے نفاذ کے بعد قانون ساز اسمبلی کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔
موجودہ قانون ساز اسمبلی میں:
- 41 علاقائی نشستیں آزاد جموں و کشمیر سے
- 12 نشستیں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں
اس طرح کشمیری مہاجرین کی نمائندگی اب تقریباً 22 فیصد رہ گئی ہے، جو بیسک ڈیموکریسیز کے دور کی 50 فیصد اور 1970 کی اسمبلی کی 33 فیصد نمائندگی سے نمایاں طور پر کم ہے۔
تاریخی اہمیت
1947 میں قائم ہونے والی آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر بھی اس حقیقت کی عکاس تھی کہ بے گھر ہونے والے کشمیریوں نے ریاست کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق پہلی آزاد کشمیر حکومت کی تقریباً 80 فیصد کابینہ اور اعلیٰ بیوروکریسی کا تعلق ریاست جموں و کشمیر کے ان علاقوں سے تھا جو بعد میں بھارتی قبضے میں چلے گئے اور جن کے نمائندے مہاجرین کی حیثیت سے آزاد حکومت کا حصہ بنے۔ انہی شخصیات نے آزاد جموں و کشمیر کے ابتدائی سرکاری اداروں، انتظامی ڈھانچے، عدالتی و انتظامی نظام اور ریاستی بیوروکریسی کی بنیاد رکھی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیری مہاجرین نے آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کی تشکیل، استحکام اور ادارہ سازی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
یہ تاریخی حقائق واضح کرتے ہیں کہ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کبھی بھی کوئی غیر معمولی رعایت یا خصوصی مراعات نہیں رہی، بلکہ یہ آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی اور آئینی نظام کی بنیاد کا حصہ رہی ہے۔ اس نمائندگی کی بنیاد اس آئینی اور بین الاقوامی مؤقف پر ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک واحد متنازعہ ریاست ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔
اگر تاریخی ارتقاء کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی میں وقت کے ساتھ مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ بیسک ڈیموکریسیز کے دور میں یہ 50 فیصد تھی، 1970 کی قانون ساز اسمبلی میں 33 فیصد رہ گئی، جبکہ موجودہ آئینی نظام میں یہ تقریباً 22 فیصد ہے۔
مزید برآں، اس صدی میں ہونے والے تمام عام انتخابات (2001، 2006، 2011، 2016 اور 2021) کا جائزہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں حکومتیں بنیادی طور پر علاقائی نشستوں پر حاصل ہونے والے عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر قائم ہوئیں۔ مہاجرین کی نشستیں حکومت سازی کا فیصلہ کن عنصر ثابت نہیں ہوئیں، بلکہ ان کا مقصد ریاست جموں و کشمیر کے بے گھر شہریوں کی آئینی نمائندگی کو برقرار رکھنا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ وقت کے ساتھ کشمیری مہاجرین کی نمائندگی میں اضافہ نہیں بلکہ مسلسل کمی آئی ہے۔ اس نمائندگی کو برقرار رکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے تمام علاقوں اور اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے شہری، مسئلہ کشمیر کے حتمی اور منصفانہ حل تک ریاست کے سیاسی مستقبل میں برابر کے شریک اور فریق رہیں۔ یہ نشستیں کسی خصوصی رعایت کی علامت نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے وحدانی تشخص اور اس کے آئینی و تاریخی تسلسل کی مظہر ہیں۔
